خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 272
By Maulana Wahiduddin Khan
مِنْ أَمْوَالِهِمْ (4:34) یعنی، مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں۔ اس لیے کہ اللہ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس لیے کہ انھوں نے اپنے مال خرچ کیے ۔ گھر کی ریاست میں مرد کو قوام (سربراہ) بنایا گیا ہے۔ اس کی وجہ عورت کے اوپر مرد کی پیدائشی فضیلت ہے۔ تاہم اس سے مراد مطلق یا کُلّی فضیلت نہیں ہے بلکہ اس سے مراد صرف وہ فضیلت یا خصوصیت ہے جو مرد کے لیے قوامیت کا استحقاق ثابت کرتی ہے۔ آیت میں ’’بعض کو بعض پر فضیلت‘‘ کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کو کسی نہ کسی اعتبار سے دوسرے کے اوپر فضیلت حاصل ہے۔ قوامیت کے لیے جو صفات درکار ہیں وہ مرد کے اندر زیادہ ہیں، اس لیے مرد کو گھر کا قوام بنایا گیا ہے۔ اس کے برعکس، گھر سنبھالنے اور نئی نسل کی پرورش اور تربیت کے لیے جو صفات درکار ہیں وہ مقابلہً عورت کے اندر زیادہ ہیں۔ عورت کی اسی افضلیت کی بنا پر اس کو گھر کے اندرونی امور کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔ عورت کے لیے نفقہ کا حق مرد کے اوپر اس کا ایک قانونی حق ہے۔ مرد اگر اس کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو عورت اس کو عدالت کے ذریعہ وصول کر سکتی ہے۔ تاہم اس کی مقدار کا تعین مرد کی استطاعت کے لحاظ سے ہوگا۔ استطاعت اگر زیادہ ہے تو اس کی مقدار زیادہ ہوگی۔ اور استطاعت اگر کم ہے تو اس کی مقدار بھی اسی نسبت سے کم ہو جائے گی۔ حسن سلوک مرد کو ہر حال میں اس کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ عورت کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ اختیار کرے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (19: 4) یعنی، عورتوں کے ساتھ اچھی طرح گزر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمھارے لیے بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader