Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 273

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کا حکم صرف پسندیدہ حالات میں نہیں ہے بلکہ اس وقت بھی ہے جب کہ بظاہر وہ مرد کے لیے زیادہ پسندیدہ نہ ہوں۔ یہ ایک مطلق حکم ہے۔ اس پر ایک مرد کو اس وقت بھی عمل کرنا ہے جب کہ اس کی بیوی اس کے لیے ایک پسندیدہ عورت ہو، اور اس وقت بھی جب کہ کسی وجہ سے وہ اس کی پسند سے مطابقت نہ کرے۔ عورت کے ساتھ حسن سلوک کا یہ حکم اتنا زیادہ اہم ہے کہ ایک سے زیادہ بیوی کے لیے اس کو شرط لازم قرار دیدیا گیا ہے۔ یعنی ایک سے زیادہ بیوی کی اجازت صرف اس شخص کے لیے ہے جو ہر ایک کے ساتھ یکساں سلوک کر سکے۔ جو ہر ایک کے ساتھ کامل عدل کا رویہ اختیار کرے ۔ جو شخص عدل کا رویہ اختیار نہ کر سکے اس کے لیے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت نہیں ۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم ان کے درمیان انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی بیوی رکھو : فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً (4:3) ۔ معاشرت بالمعروف کا لفظ ایک عام لفظ ہے۔ اس میں وہ تمام مطلوب چیزیں شامل ہو جاتی ہیں جن کا انسانی فطرت تقاضا کرتی ہے یا جو خاندانی نظام کی درستگی کے لیے عقلاً یا شرعاً ضروری سمجھی جائیں ۔ یہ معاشرت بالمعروف اسلام میں اتنا زیادہ اہم ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں (خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي) سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 1977 ۔ عورت کی ذمہ داریاں عورت کو مرد کے ساتھ (ایک بیوی کو اپنے شوہر کے ساتھ) کس طرح رہنا چاہیے ۔ یہ فطرت کی زبان میں ہر عورت کے اندر پیشگی طور پر رکھ دیا گیا ہے۔ اگر عورت فی الواقع سنجیدہ ہو تو خود اس کی اندرونی فطرت اس معاملہ میں اس کی رہنمائی کے لیے کافی ہو جائے گی۔ یہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page