Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 274

By Maulana Wahiduddin Khan

مطلب ہے اس آیت کا کہ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ فرماں بردار ہوتی ہیں اور رازوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں (سورہ النساء،4:34)۔ مرد کے حق میں عورت کی جو ذمہ داریاں قرآن وسنت میں بتائی گئی ہیں، وہ دراصل اسی فطرت نسوانی کا تعین ہیں۔ اگر عورت کی فطرت زندہ ہو، اور وہ حقیقت پسند بن کر زندگی گزارنا چاہے تو وہ اسلام کی ان تعلیمات کو اپنے لیے اجنبی نہیں پائے گی بلکہ ان کو خود اپنے دل کی آواز سمجھ کر انہیں قبول کرلے گی۔ یہاں ہم ان اسلامی اصولوں کو چند عنوانات کے تحت مختصر درج کرتے ہیں۔ اطاعت قرآن میں بتایا گیا ہے کہ نیک بخت عورتیں قانات (4:34) ہوتی ہیں۔ قانتات کی تشریح حضرت عبداللہ بن عباس نے المُطِيعَاتُ لِأَزْوَاجِهِنَّ کے لفظ سے کی ہے۔ یعنی نیک بخت عورتیں اللہ کی نظر میں وہ ہیں جو اپنے شوہروں کی فرماں بردار ہوں۔ یہ اس تقسیم کا فطری تقاضا ہے جس کے تحت مرد کو خاندانی نظام میں قوام بنایا گیا ہے۔ ملک کا حکمراں ملک کے نظام کو اسی وقت درست طور پر چلا سکتا ہے جب کہ ملک کے عوام حکمراں کی اطاعت کرنے پر راضی ہوں۔ اگر عوام اطاعت نہ کریں تو بہتر سے بہتر حکمراں بھی ملک کے نظام کو درست کرنے میں ناکام رہے گا۔ یہی معاملہ گھر کے نظام کا بھی ہے۔ گھر کسی قوم کی وسیع تراجماعیت کی ابتدائی وحدت ہے۔ چھوٹی چھوٹی وحدتیں جب درست ہوں گی، اسی وقت بڑی اجتماعیت درست ہوسکتی ہے۔ اس لیے انتہائی ضروری ہے کہ گھر کے اندر اطاعت اور موافقت کی فضا ہو۔ عورت کو بلاشبہ اختلاف اور مشورہ کا حق ہے۔ مگر جب مرد ایک بات کا فیصلہ کر دے تو عورت کے اوپر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ پوری وفاداری کے ساتھ مرد کے فیصلہ کی پابند بن جائے۔ مرد باہر کی دنیا کے تجربات کی بنا پر نسبتاً وسیع ذہن کے ساتھ سوچتا ہے۔ اس کے طرز فکر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page