خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 275
By Maulana Wahiduddin Khan
میں حقیقت پسندی ہوتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں عورت کی سوچ میں اکثر محدودیت آ جاتی ہے۔ وہ جذباتیت کا شکار ہونے لگتی ہے۔ یہ ایک حد تک عورت کے پیدائشی مزاج اور اس کے دائرہ کار کا خاصہ ہے۔ تاہم عورت کے اندر اپنی اس کمی کا احساس ہونا چاہیے۔ وہ مرد کو مشورہ دے سکتی ہے۔ مگر مرد کے مقابلے میں بے لچک اصرار اس کے لیے درست نہیں۔ گھر کا نظام ایک چھوٹی سی جمہوریت ہے۔ مگر ہر جمہوریت کا ایک لیڈر ہوتا ہے۔ اور گھر کی جمہوریت کا لیڈر اسلامی شریعت نے مرد کو بنایا ہے۔ راز کی حفاظت عورت کے اوپر مرد کا دوسرا حق ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: حَافِظَاتُ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ (4:34)۔ یعنی، صالح عورتیں مرد کے رازوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے ان کے رازوں کی حفاظت کی ہے۔ عورت مرد کا لباس ہوتی ہے۔ جس طرح لباس آدمی کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے اسی طرح عورت آدمی کے سب سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ میاں اور بیوی وہ واحد ساتھی ہیں جن کے لیے باہم ایک دوسرے کی شرمگاہوں تک کو بے نقاب کرنا جائز قرار دیا گیا ہے۔ اس تعلق اور نزدیکی کی وجہ سے یہ ہوتا ہے کہ عورت آخری حد تک مرد کے رازوں سے واقف ہو جاتی ہے۔ وہ مرد کی انتہائی چھپی ہوئی باتوں تک سے آگاہ ہوتی ہے۔ یہ ایک نہایت نازک صورت حال ہے۔ ہر آدمی کے بہت سے چھپے ہوئے راز ہوتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتا کہ دوسرے لوگ ان سے مطلع ہوں۔ مگر ہر آدمی مجبور ہے کہ اس کی بیوی اس کی تمام چھپی ہوئی باتوں سے مطلع ہو جائے۔ کوئی مرد اپنے رازوں کو اپنی بیوی سے چھپا کر نہیں رکھ سکتا۔ ایسا کرنا نہ تو مفید ہے اور نہ عملی طور پر ممکن ہے۔ اس کا حل اسلامی شریعت میں یہ نکالا گیا ہے کہ عورت کو خصوصی طور پر پابند کیا گیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader