خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 276
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ وہ مرد کے رازوں کی حفاظت کرے ۔ وہ کسی حال میں ان کو دوسروں کے اوپر نہ کھولے۔ اگر وہ مرد کے راز کو دوسروں کے اوپر کھولے گی تو اس کو ڈرنا چاہیے کہ خدا اس کے رازوں کو کھول دے ۔ خدا اس کو آخرت میں بے نقاب کردے ۔ اور کون ہے جو اس بے نقابی کا تحمل کر سکتا ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب دو آدمی ساتھ مل کر رہتے ہیں تو ان میں اختلاف اور شکایت کے واقعات بھی لازماً پیش آتے ہیں۔ اس حقیقت کو ملحوظ رکھا جائے تو اس ہدایت کا پورا مطلب یہ ہوگا کہ مرد سے شکایت ہو تب بھی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے رازوں کو کھولے، مرد سے اختلاف ہو تب بھی عورت کو یہ نہیں چاہیے کہ وہ مرد کی چھپی ہوئی باتوں کو دوسروں کے سامنے بیان کرے ۔ عورت مرد کی راز دار ہے ، مزید یہ کہ اسے اس راز داری کو آخر وقت تک نبھانا ہے ، مرد سے شکایت کے واقعات پیش آنے کے بعد بھی اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ مرد کے راز کو کسی تیسرے شخص سے بیان کرنے لگے۔ گھر کا انتظام قرآن میں عورتوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وَقَرْنَ فِی بُیُوتِکُنَّ (33:33) ۔ یعنی ، اور تم اپنے گھر میں قرار سے رہو۔ مفسرین نے اس کی تشریح اَلزَّمْنَ بُیُوتَکُنَّ بِاَمْرِ بِالْقَرَارِ فِي الْبُیُوتِ کے الفاظ سے کی ہے ۔ یعنی اپنے گھروں میں ٹھہرو، اپنے گھروں کو اپنا دائرہ عمل بناؤ۔ موجودہ زمانہ میں عورت بیرونی نمائش کا ایک سامان بن کر رہ گئی ہے ۔ اسلام کا نقشہ اس کے مقابلہ میں یہ ہے کہ عورت گھر کے اندر رہے اور داخلی ذمہ داریوں کو سنبھالے۔ گھر کا انتظام ، افراد خاندان کی خانگی ضروریات ، امور خانہ داری کا بندوبست ، بچوں کی دیکھ بھال، یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader