خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 277
By Maulana Wahiduddin Khan
سب عورت کی ذمہ داری ہے۔ اور یہ سب وَقْرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ میں شامل ہے۔ گھر کو سنبھالنا، چھوٹے پیمانہ پر ایک ریاست کو سنبھالنا ہے۔ یہ اتنا ہی اہم اور معزز کام ہے جتنا ملکی ریاست کا کام ہو سکتا ہے۔ عورت کو چاہیے کہ وہ گھر کے معاملات کا انتظام ایک با عزت ذمہ داری کے طور پر کرے۔ گھر کو معیاری گھر بنانے میں وہ اپنی پوری صلاحیت وقف کر دے۔ وہ گھر کے باغ کی مالی بن جائے۔ یہی مطلب ہے اس حدیث کا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اَلمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْئُوْلَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5188؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1829)۔ یعنی، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اور وہ اس کی جواب دہ ہے۔ گھر گرہستی یا امور خانہ داری کی مہارت عورت کا سب سے بڑا زیور ہے، جو مسلم عورت اس زیور سے مزین ہو وہی کامل عورت ہے۔ جو عورت اس امتحان میں پوری اترے وہی اللہ کے یہاں عزت اور کامیابی کی مستحق قرار دی جائے گی۔ جو عورت دنیا میں ایک مکان کو آباد کرے وہی جنت کے زیادہ اعلیٰ مکان میں آباد کاری کے لیے منتخب کی جائے گی۔ بہترین عورت ایک حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟ قَالَ: الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِيمَا يَكْرَهُ فِي نَفْسِهَا، وَلَا فِي مَالِهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 9587)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ عورتوں میں سب سے بہتر عورت کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ جو اپنے شوہر کو خوش کر دے جب کہ وہ اسے دیکھے۔ اور وہ اپنے شوہر کی اطاعت کرے جب کہ وہ اس کو حکم دے۔ اور وہ اپنے نفس اور اس کے مال میں شوہر کے خلاف نہ کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader