خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
اس حدیث میں نہایت عمدہ طور پر وہ حقوق بتا دیے گئے ہیں جو عورت کے اوپر مرد کی طرف سے عائد ہوتے ہیں۔ مرد باہر کی دنیا کی تلخیاں جھیل کر گھر کے اندر داخل ہوتا ہے۔ اب بہترین بیوی وہ ہے جو مرد کی تلخیوں کو مسرت میں تبدیل کردے، وہ اپنے شوہر کے لیے سکون کا گوشہ بن جائے ۔ اسی طرح مرد مختلف تقاضوں کے تحت اپنی بیوی کو ایک ہدایت دیتا ہے۔ اس کے پیچھے بہت سی داخلی اور خارجی مصلحتیں شامل رہتی ہیں۔ اب عورت کو چاہیے کہ وہ کامیاب رفیقۂ حیات کی طرح اس کی تعمیل میں لگ جائے، وہ گھر کے اندر کوئی مسئلہ کھڑا کیے بغیر مرد کے منصوبہ کو تکمیل تک پہنچائے۔ اسی طرح عورت کا اپنا وجود اور گھر کا پورا اثاثہ عورت کے پاس گویا مرد کی امانت ہے۔ مرد اپنی بیرونی مصروفیات کی وجہ سے ان چیزوں کی رکھوالی نہیں کرسکता۔ اب عورت کی وفا شعاری کا تقاضا ہے کہ ان امور میں وہ پوری طرح اپنے شوہر کی امین بن جائے۔ وہ اپنی ذات کو بھی صرف اپنے شوہر کے لیے محفوظ رکھے اور گھر کے تمام ساز وسامان کو بھی۔ عورت مرد کے لیے ذریعہ سکون ہے۔ اسی کے ساتھ وہ گھر کے اندر مرد کے نائب کی حیثیت رکھتی ہے۔ بہترین عورت وہ ہے جو ان دونوں قسم کی ذمہ داریوں میں پوری اترے۔ یہی وہ عورت ہے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ: لَيْسَ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنَ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1855)۔ یعنی، دنیا کے سرمایے میں کوئی چیز صالح بیوی سے زیادہ بہتر نہیں۔ ظاہر سے زیادہ باطن کو دیکھنا قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ تم کو ایک چیز ناپسند ہو اور اللہ نے اس میں بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (4:19)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader