Urdu book · خاتونِ اسلام

ظاہر سے زیادہ باطن کو دیکھنا

Urdu book, p. 279

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے کہ کوئی مومنہ کسی مومنہ سے نفرت نہ کرے ۔ اگر اس کی ایک خصلت مرد کو پسند نہ آئے تو اس کی دوسری خصلت اس کی پسند کے مطابق ہوگی : لا يفرك مؤمن مؤمنة، إن سخط منها خلقا رضي منها آخر ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 1469 )۔ اس تعلیم کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ کسی ظاہری ناپسندیدگی کو دیکھ کر اس سے بیزار نہ ہو جاؤ۔ کیوں کہ خدا نے کسی کو ہر اعتبار سے ناقص نہیں بنایا۔ ہر عورت یا مرد کا معاملہ یہ ہے کہ اگر ایک اعتبار سے اس کے اندر کمی ہے تو کسی اور اعتبار سے اس میں زیادتی بھی ضرور موجود ہوگی۔ ایک شخص نے شادی کی۔ اس کی بیوی آئی تو اس نے دیکھا کہ وہ نازک اندام نہیں ہے بلکہ مضبوط ہاتھ پاؤں والی ہے اور دیکھنے میں نیم مرد معلوم ہوتی ہے۔ وہ نازک اندام بیوی چاہتا تھا۔ اس لیے بھاری بھرکم قسم کی بیوی کو دیکھ کر اس سے بیزار رہنے لگا۔ مگر جلد ہی حالات بدلے۔ مرد کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے وہ زیادہ کام کرنے کے قابل نہ رہا۔ اب بیوی نے طے کیا کہ وہ اپنے شوہر کا سہارا بنے گی۔ اس نے بھر پور محنت کر کے روزی کمانا شروع کیا وہ چونکہ طاقتور اور مضبوط ہاتھ پاؤں والی تھی، اپنے کام میں کامیاب رہی۔ اس کی وجہ سے گھر میں معقول پیسے آنے لگے۔ شوہر کا روزگار چھوٹنے کا کوئی اثر گھر کے مالیاتی نظام پر نہیں پڑا۔ اب شوہر کو معلوم ہوا کہ وہ بیوی جس کو اس نے اپنے لیے زحمت سمجھ لیا تھا، وہ اس کے لیے عظیم رحمت تھی۔ اس کی بیوی کے اندر اگر چہ نازک اندامی کی صفت نہ تھی، مگر اس کے اندر ایک اور نہایت قیمتی صفت تھی۔ یعنی شوہر کی معذوری کے وقت اس کا معاشی سہارا بننا۔ زندگی کی یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page