خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 280
By Maulana Wahiduddin Khan
وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ (24:32)۔ یعنی، تم میں سے جولوگ مجرد ہوں اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جوسالح ہوں ان کا نکاح کردو۔ اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ یہی بات ایک حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عَوْنُهُمْ: الْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ، وَالْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 4995)۔ یعنی، تین شخص ہیں کہ ان کی مدد اللہ کے ذمہ ہے۔ وہ نکاح کرنے والا جو طالب عفت ہو اور وہ مکاتب جو مال ادا کر کے آزاد ہونا چاہتا ہو اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا۔ متوازن تعلیم کسی معاملہ میں جب دو فریق ہوں تو سوچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دونوں اپنی اپنی طرف دیکھیں۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دونوں دوسرے کی طرف دیکھیں۔ پہلے طریقہ میں آدمی کی نگاہ اپنی ذمہ داریوں پر ہوتی ہے اور دوسرے طریقہ میں آدمی کی نگاہ اپنے حقوق پر۔ پہلا طریقہ اصلاح کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا طریقہ فساد کی طرف۔ جب آدمی کی نظر اپنے حقوق پر ہو تو اس کی تمام تر توجہ معاملے کے دوسرے فریق کی طرف چلی جاتی ہے۔ وہ ہر چیز کا ذمہ دار فریق ثانی کو ٹھہرانے لگتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر ضد اور انتقام کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ اپنے حصہ کا کام انجام نہیں دیتا۔ وہ چاہنے لگتا ہے کہ سب کچھ صرف فریق ثانی کرے، خودا سے کچھ نہ کرنا ہو۔ اس کے برعکس، جب آدمی کی نظر اپنی ذمہ داریوں پر ہو تو اس کی ساری توجہ خوداپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader