Urdu book · خاتونِ اسلام

متوازن تعلیم

Urdu book, p. 281

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ پر لگ جاتی ہے۔ وہ اپنے حصہ کی کوتاہیوں کو تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں اس کے اندر سنجیدگی اور خود احتسابی کی نفسیات جاگتی ہے۔ وہ اپنی طاقتوں کو تخریب کے بجائے تعمیر پر لگانے کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ اس کا یہ عمل دوسرے فریق کو بھی سنجیدہ بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے حصہ کی ذمہ داریوں کو ادا کر کے دوسرے فریق کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ بھی اپنے حصہ کی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔ یہی دوسرا طریقہ اسلام کا طریقہ ہے۔ اسلام اگر دیکھتا ہے کہ کسی معاملہ میں ایک فریق نسبتاً کمزور ہے تو اس کو صبر کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اور دوسرا فریق اگر کسی وجہ سے طاقتور حیثیت کا مالک ہے تو اس کو وہ عدل اور انصاف کی تاکید کرتا ہے۔ شوہر اور بیوی کے تعلقات کے بارے میں اسلام کی جو ہدایات ہیں، وہ بعض پہلوؤں سے اسی اصول پر مبنی ہیں۔ صنفی بناوٹ کے اعتبار سے عورت کمزور فریق ہے اور مرد طاقتور فریق۔ اس لیے اسلام نے اپنی ہدایات میں دونوں کے اس فرق کو ملحوظ رکھا ہے تا کہ دونوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی اور موافقت کی فضا پیدا ہو اور کسی رکاوٹ کے بغیر گھر کی تعمیر ممکن ہو سکے۔ عورتوں کے بارے میں اسلام یہ تاکید کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر انقیاد کا مزاج پیدا کریں۔ وہ اپنے شوہروں کی اطاعت کرنے والی بنیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ (4:34) - یعنی صالح عورتیں اپنے شوہروں کی فرماں بردار ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے اس آیت کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے: الْمُطِيعَاتُ لِأَزْوَاجِهِنَّ (اپنے شوہروں کی اطاعت کرنے والی عورتیں) تفسیر ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 293۔ عورت کو اپنے شوہر کا اطاعت گزار بنانے کا مطلب دراصل اس کے اندر اس صالح مزاج کو پرورش کرنا ہے جس کے بعد وہ اپنے شوہر کی سچی رفیق بن سکے۔ جس کے نتیجہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page