متوازن تعلیم
Urdu book, p. 282
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے گھر کے اندر تعمیری فضا پیدا ہو، نہ کہ لڑائی جھگڑے کی فضا۔ اطاعت گزار بیوی اپنے شوہر کے دل کو جیت کر گھر کی مالک بن جاتی ہے۔ وہ گھر کے اندر سب سے اونچی جگہ حاصل کر لیتی ہے۔ اس کے برعکس، غیر اطاعت گزار بیوی کے حصہ میں صرف یہ آتا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر اپنے شوہر سے لڑتی رہے اور اس کا نتیجہ اس کو یہ ملے کہ اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے تلخ ہو کر رہ جائے۔ دوسری طرف اسلام مرد کے اندر یہ مزاج بنانا چاہتا ہے کہ وہ کسی حال میں عدل سے نہ ہٹے ۔ وہ گھر کے اندر اپنی قوّامیت کو استعمال کرتے ہوئے یہ نہ بھولے کہ موت کے بعد اس کا معاملہ سب سے بڑے قوّام اور سب سے بڑے حاکم کے سامنے پیش آنے والا ہے۔ وہاں اس آدمی کا معاملہ سخت ہوگا جو دنیا میں اپنے زیر دستوں کے ساتھ سختی کرے۔ اور وہاں اس کا معاملہ نرم ہوگا جو دنیا میں اپنے زیر دستوں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کرے۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے : عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي ( سنن الترمذي، حدیث نمبر 3895؛ سنن الدارمی، حدیث نمبر 2282 ؛ سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 1977 ) ۔ یعنی، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔ اس حدیث کے مطابق آدمی کا گھر اس کا مقام حکومت نہیں بلکہ اس کا مقام تربیت ہے۔ جو شخص گھر کے نظام میں بہتر ثابت ہو وہ پورے سماج اور پوری قوم کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔ اس کے برعکس جو شخص گھر کے نظام میں برا ثابت ہو وہ سماج اور قوم کے لیے بھی ایک برا انسان ہوگا۔ پہلا آدمی وسیع تر انسانیت کے لیے رحمت ہے اور دوسرا آدمی وسیع تر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader