نکاح و طلاق
Urdu book, p. 284
By Maulana Wahiduddin Khan
نکاح و طلاق ایک مرد اور ایک عورت جب اپنے آپ کو نکاح کے رشتہ میں وابستہ کرتے ہیں تو ہمیشہ اسی جذبہ کے تحت وابستہ کرتے ہیں کہ دونوں ساری عمر ایک ساتھ رہیں گے اور ایک ساتھ زندگی گزاریں گے۔ اس کے بعد جب قدرت ان کے درمیان ایک بچہ پیدا کرتی ہے تو یہ گویا ایک قسم کی زنجیر ہوتی ہے جو اس بات کی ضمانت ہوتی ہے کہ دونوں زیادہ گہرائی اور پائیداری کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہو چکے ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) میں مغربی ملکوں کے اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ بے اولاد جوڑوں میں طلاق کا رجحان اس سے زیادہ پایا گیا جتنا کہ ان جوڑوں میں جو صاحب اولاد ہیں: “Childless couples tend to have a higher divorce rate than couples with children.” (Encyclopedia Britannica, 7/163-64). ایک مغربی جج نے اپنے فیصلہ میں اس فطری حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ ہر چھوٹا بچہ جو ایک جوڑے کے یہاں پیدا ہو وہ ایک مزید ضمانت ہے کہ ان کی شادی کسی طلاق کی عدالت میں کبھی ختم نہ ہوگی: Every little youngster born to a couple is an added assurance that their marriage will never be dissolved in a divorce court. تا ہم اس قسم کی تمام فطری اور نفسیاتی بندھنوں کے باوجود کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد یا عورت یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ دونوں کو ایک دوسرے سے علاحدہ ہو جانا چاہیے ۔ قدیم زمانہ میں یہ صورت حال بہت کم پیش آتی تھی۔ مگر موجودہ زمانے میں، خاص

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader