خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 285
By Maulana Wahiduddin Khan
طور پر مغربی ملکوں میں، طلاقوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ طلاق زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ مگر طلاق کی کثرت بلاشبہ ایک نئی چیز ہے جو موجودہ زمانے میں مختلف اسباب کے تحت پیدا ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک سبب عورتوں کے لیے روزگار کی آسانی بھی ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ صنعتی دور نے عورتوں کے لیے یہ بات زیادہ آسان کردی کہ وہ اپنی معاش خود حاصل کرسکیں، خواہ وہ تنہا ہوں یا شادی شدہ ہوں یا مطلقہ ہوں یا بیوہ ہوں۔ اس سلسلہ میں یہ بات دلچسپی کے ساتھ نوٹ کرنے کی ہے کہ 1930 کے بعد کے زمانہ میں پیدا ہونے والی عظیم کسا د بازاری نے امریکہ میں طلاقوں کے اضافہ کی تعداد کو ایک عرصہ کے لیے روک دیا تھا: Industrialization has made it easier for women to support themselvewhether they are single, married, divorced, or widowed. In this connection, it is interesting to note that the Great Depression of the 1930s stopped the rise in the number of divorces in the United States for a time. (Encyclopedia Britannica, 7/163) طلاق کا حکم نکاح کا مسئلہ زندگی کا اصل مسئلہ ہے جب کہ طلاق کا مسئلہ صرف ایک استثناء ہے۔ تاہم چوں کہ ایسا استثناء بار بار پیش آتا ہے اس لیے الہی قانون اور وضعی قانون دونوں میں اس کی بابت احکام مقرر کیے گئے ہیں۔ الہی شریعت کی صحیح اور کامل نمائندگی اب صرف وہ ہے جو قرآن کی صورت میں پائی جاتی ہے۔ کیوں کہ قرآن ایک محفوظ کتاب ہے۔ قرآن میں، اور اسی طرح اس کی مستند شرح کے طور پر سنت میں، طلاق کی بابت بہت سے احکام دیے گئے ہیں۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ طلاق انتہائی ناگزیر حالات میں دی جائے۔ چنانچہ حدیث میں اس کو أَبْغَضُ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader