خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 286
By Maulana Wahiduddin Khan
المباحثات ( سب سے زیادہ نا پسندیدہ حلال ) کہا گیا ہے ( سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 2178 )۔ اور دوسری چیز یہ کہ جب طلاق کا معاملہ کیا جائے تو اس طرح کیا جائے کہ دونوں عزت اور شرافت کے ساتھ علیحدہ ہو جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ ایک یا دوسرے کے اندر ضد کی نفسیات پیدا ہو جائے اور وہ فریق ثانی کو بے عزت یا بے سہارا کرنے کی کوشش کرنے لگیں۔ قرآن میں طلاق کے حکم کے ذیل میں ارشاد ہوا ہے: وَأُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیلًا ( 33:28 )۔ یعنی، جب انھیں طلاق دے کر رخصت کرو تو بھلے طریقہ سے اور شریفانہ انداز سے رخصت کرو۔ طلاق کی دو صورتیں عملی اعتبار سے طلاق کی دو صورتیں ہیں۔ ایک وقتی جذبے کے تحت طلاق، دوسری مستقل فیصلے کے تحت طلاق۔ دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے الگ ہے۔ خاندانی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ تلخیاں اور نا خوش گواریاں پیش آتی ہیں۔ یہ تلخیاں اور نا خوش گواریاں اجتماعی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ان کو کسی حال میں بھی اجتماعی زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ نا خوش گواریاں جب سامنے آتی ہیں تو سمجھ دار آدمی صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ یا سخت الفاظ بول کر اپنے دل کے طوفان کے لیے نکاس (outlet) کا راستہ تلاش کر لیتا ہے۔ اس طرح خاندانی زندگی میں کوئی واقعی پے چیدگی پیدا ہونے نہیں پاتی۔ مگر نادان یا جھوٹے پندار میں مبتلا ہونے والے لوگ نہ صبر کر پاتے اور نہ سخت الفاظ بول کر ان کے دل کو تسکین ہوتی ہے۔ وہ اپنے غصہ کے مکمل اظہار یا فریق ثانی کو آخری سزا دینے کے لیے فوراً کہہ بیٹھتے ہیں ۔ تم کو طلاق، طلاق، طلاق۔ اس قسم کی طلاق در حقیقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader