Urdu book · خاتونِ اسلام

طلاق کی دو صورتیں

Urdu book, p. 287

By Maulana Wahiduddin Khan

غیظ و غضب کے اظہار کی انتہائی صورت ہے جو ان لوگوں کے اندر ظاہر ہوتی ہے جو اپنے جذبات کو تھامنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں۔ مسٹر قریشی کا واقعہ جو اخبارات میں آیا تھا وہ اسی کی مثال ہے (دیکھیے، زیر نظر کتاب کا صفحہ 230)۔ اگر وہ وقتی نہ ہوتا تو مسٹر و قریشی نادرہ بیگم کو دوبارہ اپنی زوجیت میں لینے کا ارادہ ظاہر نہ کرتے۔ (ٹائمس آف انڈیا، یکم مئی 1986) اسلام کا مقرر کردہ طریق طلاق اس برائی کو روکنے کی انتہائی کامیاب فطری تدبیر ہے۔ اسلام کا یہ طریقہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيجٌ بِإِحْسَانٍ (2:229)۔ یعنی، طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو معروف کے مطابق عورت کو روک لینا ہے یا اچھے طریقے سے اس کو رخصت کر دینا ہے۔ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ، فَأَيْنَ الثَّالِثَةُ؟ قال: فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيجٌ بِإِحْسَانٍ ، هِيَ الثَّالِثَةُ (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 19216)۔ یعنی، ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول، اللہ نے طلاق کی آیت میں دو بار کا ذکر کیا ہے۔ پھر تیسری بار کہاں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ معروف کے ساتھ روک لینا یا احسان کے ساتھ رخصت کرنا یہی تیسرا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی شخص کے دل میں اپنی بیوی کو طلاق دینے کا خیال آئے تو اس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ ایک ہی بار آخری طلاق دے کر اسے رخصت کردے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ طلاق دینے کے عمل کو تین مہینے کی مدت میں مکمل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page