طلاق کی دو صورتیں
Urdu book, p. 288
By Maulana Wahiduddin Khan
کرے ۔ طلاق دینے والے کو چاہیے کہ وہ الگ الگ دوطہر (پاکی) میں دو مرتبہ طلاق دے۔ اور پھر تیسری طہر میں یا تو رجوع کرے۔ اور اگر وہ رجوع کرنا نہیں چاہتا تو تیسری بار طلاق دے کر اسے رخصت کردے۔ اگر آدمی کے دل میں طلاق دینے کا خیال اس وقت آیا ہو جب کہ عورت حیض کے ایام سے گزر رہی ہو تو اس وقت طلاق دینا درست نہیں۔ مرد کو انتظار کرنا چاہیے کہ عورت حیض سے فارغ ہو کر معتدل حالت میں آجاٹے جس کو پاکی کا دور یا طہر کہا جاتا ہے۔ اس وقت آدمی اپنی عورت سے کہے کہ میں تم کو ایک طلاق دیتا ہوں۔ اس کے بعد بھی عورت اس کے گھر میں رہے گی اور مرد دوسرے طہر کا انتظار کرے گا۔ اگلے مہینہ جب دوسرے طہر کا زمانہ آئے تو اس وقت مرد کہے کہ میں تم کو دوسری بار طلاق دیتا ہوں۔ اب پھر مرد اگلے مہینہ کے زمانہ طہر کا انتظار کرے۔ تیسرے مہینہ میں جب طہر کا زمانہ آجائے اس وقت مرد یا تو اپنے سابقہ طلاق کو واپس لے اور عورت کو دوبارہ اپنی بیوی بنالے یا تیسری بار طلاق دے کر اسے عزت کے ساتھ رخصت کردے۔ طلاق بذات خود اسلام میں سخت ناپسندیدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض حلال طلاق ہے: أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ الطَّلَاقُ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 2178)۔ اس کے بعد اگر آدمی ایسا کرے کہ وہ ایک ہی وقت میں تین طلاق دیدے تو یہ حد درجہ سرکشی کی بات ہے۔ شریعت میں اس کو بے حد برا قرار دیا گیا ہے۔ حضرت عمر کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان کے پاس ایسا شخص لایا جاتا جس نے اپنی عورت کو بیک وقت تین طلاق دی ہو تو وہ اس کی پیٹھ پر کوڑا مارتے تھے: وَكَانَ عُمَرُ إِذَا أُتِيَ بِرَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثاً أَوْجَعَ ظَهْرَهُ۔ (سنن سعید بن منصور، جلد 1، صفحہ 302)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader