خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 289
By Maulana Wahiduddin Khan
جو شخص نکاح و طلاق کے معاملہ میں اسلام کے اصول پر چلنا چاہئے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ مذکورہ اصول کی پابندی کرے۔ تین طہر میں طلاق دینے کا یہ طریقہ حد درجہ فطری اور مناسب ہے۔ اس طریقہ میں وہ تمام طلاق اپنے آپ ختم ہو جاتے ہیں جو وقتی جذبہ کے تحت پیدا ہوئے ہوں ۔ غصہ اور جوش میں اگر آدمی کے اندر طلاق کا ارادہ پیدا ہو گیا ہو تو وہ ایک مہینہ یا دو مہینہ میں اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ ذہن میں اعتدال آتے ہی آدمی اپنے پچھلے جذبہ پر پچھتائے گا۔ اور اس سے رجوع کر کے اپنی بیوی سے دوبارہ تعلقات درست کر لے گا۔ البتہ اگر طلاق کا سبب بہت زیادہ بنیادی ہو اور آدمی نے سوچ سمجھ کر علاحدگی کا فیصلہ کیا ہو تو وہ دو مہینہ گزرنے کے بعد بھی اپنے فیصلہ پر باقی رہے گا۔ اس کے بعد جب تیسرے مہینہ وہ آخری بار جدائی کا اعلان کرے گا تو وہ حقیقی جدائی ہوگی۔ وہ مصنوعی جدائی نہ ہوگی جس پر آدمی ساری عمر افسوس کرتا رہے۔ ایک واقعہ دہلی کے ایک مسلمان وکیل نے مجھ سے ایک واقعہ بیان کیا۔ ان کے یہاں ایک مسلمان آئے ۔ انھوں نے بتایا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہوں ، آپ طلاق نامہ کا مضمون بنا دیجئے ۔ مذکورہ مسلمان اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاق دینا چاہتے تھے۔ وکیل صاحب اسلام کے قانون کو جانتے تھے۔ انھوں نے مذکورہ مسلمان سے کہا کہ ایک وقت میں تین طلاق دینا اسلام میں سخت برا ہے ۔ آپ کو اگر طلاق دینا ہے تو اسلام کے مقررہ طریقہ کے مطابق تین طہر میں اس کی تکمیل کیجئے ۔ وہ راضی ہو گئے۔ واپس جا کر انھوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں تم کو ایک طلاق دیتا ہوں۔ مگر جب اگلا مہینہ آیا تو ان کے جذبات ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔ انھوں نے اپنے سابقہ فیصلہ سے رجوع کر لیا اور اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader