خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 290
By Maulana Wahiduddin Khan
بیوی سے دوبارہ تعلقات قائم کر لیے۔ وہ وکیل صاحب سے دوبارہ ملے اور کہا کہ آپ نے میرے ساتھ بہت احسان کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر میں نے جوش کی حالت میں اپنی بیوی کو اسی وقت آخری طلاق دے دیا ہوتا تو میرا گھر برباد ہو جاتا۔ متاع کا مطلب طلاق کے احکام میں سے ایک حکم وہ ہے جس کے لیے قرآن میں ’’متاع‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ اس سلسلہ میں سورہ البقرہ کی دو آیتیں حسب ذیل ہیں: لَّا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ (2:236)۔ یعنی، تم پر کچھ گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو اس وقت طلاق دو کہ ان کو تم نے ہاتھ نہ لگایا ہو اور ان کے لیے کچھ مہر مقرر نہ کیا ہو۔ اور ان کو کچھ دو، وسعت والے پر اس کے موافق ہے اور تنگی والے پر اس کے موافق ہے، دستور کے مطابق۔ لازم ہے نیکی کرنے والوں پر۔ وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ (2:241)۔ یعنی، اور طلاق دی ہوئی عورتوں کو فائدہ دینا ہے دستور کے موافق۔ لازم ہے پرہیز گاروں کے لیے۔ فقہی تفصیلات سے قطع نظر، پہلی آیت (2:236) کا سادہ مطلب یہ ہے کہ نکاح کے وقت اگر مہر نہیں ٹھہرایا گیا تھا اور نہ مرد نے عورت کو ہاتھ لگایا تھا، اور اس سے پہلے مرد نے طلاق دے دیا تو مرد پر لازم ہے کہ عورت کو رخصت کرتے ہوئے اسے کچھ دے۔ یہ دینا اپنی حیثیت کے مطابق ہوگا۔ ایسی صورت میں مہر دینا لازم نہیں۔ دوسری آیت (2:241) میں یہی حکم عمومی انداز میں طلاق کے تمام واقعات کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader