Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 291

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے ہے۔ جب بھی کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے تو آخری علیحدگی کے وقت اس کو چاہیے کہ حسن جدائی کی علامت کے طور پر عورت کو کچھ دے۔ مثلاً کپڑا یا اور کوئی چیز۔ بعض فقہاء کے نزدیک پہلی صورت میں " متاع " دینا ضروری ہے۔ جب کہ دوسری صورت میں متاع دینا صرف مستحب ہے۔ مزاج شریعت اس آیت کے سلسلہ میں فقہاء کے درمیان ضمنی اختلافات ہیں۔ تاہم یہ بات تمام فقہاء کے درمیان متفق علیہ ہے کہ اس کا تعلق اس مسئلہ سے ہے کہ طلاق واقع ہونے کے بعد وقتی طور پر سابق بیوی سے کیا سلوک کیا جائے۔ اس مسئلے سے اس آیت کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ طلاق اور علیحدگی کی تکمیل کے باوجود مطلقہ عورت کو مرد کی طرف سے مستقل گزارہ (Maintenance) دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دوسرا تصور تمام تر جدید تہذیب کی پیدا وار ہے۔ یہ تصور کبھی بھی الہی شریعت میں نہیں پایا گیا ہے۔ نہ اسلام میں اور نہ اسلام سے پہلے کی آسمانی شریعتوں میں۔ مسلم فقہاء کے درمیان آیت کے عملی انطباق کے سلسلے میں بہت کچھ جزئی اختلافات ہیں۔ مگر فقہاء میں سے کسی کی بھی یہ رائے نہیں ہے کہ اس آیت کے تحت مرد کے اوپر لازم ہے کہ وہ باقاعدہ طلاق واقع ہونے کے بعد بھی مستقل طور پر اپنی سابقہ بیوی کو گزارہ دیتا رہے۔ ایک شخص بطور خود اس قسم کا خیال ظاہر کر سکتا ہے۔ مگر قرآن یا حدیث کے اندر اس کے حق میں کوئی دلیل یا ماخذ موجود نہیں۔ اور نہ اسلامی فقہاء میں سے کسی بھی فقیہ کی یہ رائے ہے۔ اسلامی فقہ میں اسی لیے اس متّعہ کو متّعہ طلاق کہتے ہیں، نہ کہ متّعہ حیات، یعنی وہ متّعہ ( کچھ مال ) جو طلاق دے کر رخصت کرتے وقت عورت کو دیا جائے۔ قرآن ہر مسئلہ کو فطری انداز میں حل کرنا چاہتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ بات سراسر قرآنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page