Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 292

By Maulana Wahiduddin Khan

روح کے خلاف ہے کہ جس مرد سے نباہ نہ ہونے کی بنا پر عورت کی جدائی ہوئی ہے اسی مرد سے اس عورت کا نفقہ دلوا یا جائے ۔ یہ چیز سماج میں منفی ذہنیت پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گی۔ چنانچہ قرآن میں نکاح و طلاق کے احکام کے ذیل میں ارشاد ہوا ہے: وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِنْ سَعَتِهِ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا (130:4) ۔ یعنی اور اگر دونوں جدا ہو جائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنی وسعت سے بے نیاز کر دے گا اور اللہ وسعت والا حکمت والا ہے۔ اللہ کی وسعت سے مراد وہ وسیع فطری نظام ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنے بندوں کے لیے مہیا کر رکھا ہے۔ عورت کو جب طلاق ہو جائے تو اس کے تمام خونی رشتوں میں فطری طور پر اس سے ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ کسی دباؤ کے بغیر اس کی مدد اور سر پرستی کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ خود عورت کے اندر نئی قوت ارادی ابھرتی ہے اور وہ اپنے مسئلہ کے حل کے لیے اکثر ایسے کام کر ڈالتی ہے جو اس نے اس سے پہلے سو چا بھی نہیں تھا۔ سابقہ تجربات اس کو زیادہ سمجھ دار اور محتاط بنا دیتے ہیں اور اس طرح وہ اس قابل ہو جاتی ہے کہ اگر وہ دوبارہ کسی سے رشتہ نکاح میں منسلک ہو تو زیادہ کامیابی کے ساتھ رشتہ کو نباہ سکے۔ وغیرہ۔ طلاق کے بعد اس سلسلہ میں دوسرا سوال یہ ہے کہ طلاق کے بعد ایک عورت کے لیے اپنے ضروری اخراجات پورا کرنے کی صورت کیا ہے۔ اس کا ایک جواب اسلام کا قانون وراثت ہے۔ اسلام نے خاندانی جائیداد میں عورتوں کا جو حصہ مقرر کیا ہے اگر اس پر باقاعدہ عمل در آمد ہو تو عورت کے لیے بے سہارا ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ خاندانی جائیداد میں عورت کا مستقل حصہ مقرر کرنا ایک اعتبار سے اسی لیے ہے کہ عورت ہنگامی حالات میں اپنی کفالت آپ کر سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page