Urdu book · خاتونِ اسلام

طلاق کے بعد

Urdu book, p. 293

By Maulana Wahiduddin Khan

تاہم اسلام نے عورت کے معاشی مسئلے کو تمام تر وراثت پر منحصر نہیں رکھا۔ کیوں کہ وراثت کا معاملہ ہمیشہ یقینی نہیں ہوتا۔ اس کا مزید انتظام اسلام کے قانونِ نفقات سے ہے۔ آدمی کو اس کا جواب اسلام کے قانونِ نفقات میں تلاش کرنا چاہیے، نہ کہ اسلام کے قانون طلاق میں۔ یہاں ہم مختصرًا چند پہلوؤں کا ذکر کریں گے۔ 1۔ مطلقہ عورت اگر بے اولاد ہے یا اولاد کمانے کے قابل نہیں ہے تو اسلامی شریعت کے مطابق اس کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے والد پر ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہی صورت دوبارہ لوٹ آئے گی جو شادی سے پہلے تھی۔ شادی سے پہلے باپ اپنی لڑکی کا کفیل تھا۔ طلاق کے بعد دوبارہ وہ اپنی لڑکی کا کفیل ہو جائے گا: فَالإِنَاثُ عَلَيْهِ نَفَقَتُهُنَّ إِلَى أَنْ يَتَزَوَّجْنَ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ مَالٌ، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُؤَاجِرَهُنَّ فِي عَمَلٍ وَلَا خِدْمَةٍ وَإِنْ كَانَ لَهُنَّ قُدْرَةٌ، وَإِذَا طُلِّقَتْ وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا عَادَتْ نَفَقَتُهَا عَلَى الأَبِ۔ (فتح القدير للكمال ابن الهمام جلد 4، صفحہ 410)۔ یعنی، باپ پر اس کی لڑکیوں کا نفقہ اس وقت تک ہے جب تک وہ شادی نہ کریں جب کہ لڑکیوں کے پاس مال نہ ہو۔ اور باپ کو حق نہیں کہ وہ انھیں کسی عمل یا خدمت پر لگائے، اگر چہ ان کے اندر اس کی قدرت کیوں نہ ہو۔ اور جب لڑکی کو طلاق ہو جائے اور اس کی عدت پوری ہو جائے تو اس کا نفقہ دوبارہ باپ پر لوٹ آئے گا۔ 2۔ مطلقہ عورت اگر ماں ہے۔ یعنی وہ ایسی اولاد رکھتی ہے جو صاحب معاش ہے تو ایسی صورت میں اس کے اخراجات کی پوری ذمہ داری اس کی اولاد پر ہوگی: أَنَّ جَمِيعَ مَا وَجَبَ لِلْمَرْأَةِ وَجَبَ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ عَلَى الْوَلَدِ مِنْ طَعَامٍ وَشَرَابٍ وَكُسْوَةٍ وَسُكْنَى حَتَّى الْخَادِمِ (الدر المختار وحاشية ابن عابدين ”رد المحتار“، جلد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page