خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 294
By Maulana Wahiduddin Khan
3، صفحہ (622) _ یعنی، وہ سب جو بیوی کے لیے واجب ہے وہ سب باپ اور ماں کے لیے لڑکے کے پر واجب ہوگا، یعنی کھانا، پینا، کپڑا، مکان، یہاں تک کہ خادم بھی۔ 3_ اگر مطلقہ عورت کا باپ نہ ہو یا اس کی اولاد اس کی کفالت کرنے کے قابل نہ ہو تو دوسرے قریبی اور محرم اعزّہ اس کی معاشی کفالت کے ذمہ دار ہوں گے۔ مثلاً چچا، بھائی، وغیرہ۔ اگر یہ تیسری صورت بھی موجود نہ ہو تو اسلامی شریعت کی رو سے ریاست کا بیت المال اس کے اخراجات کو پورا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ مطلقہ عورت کو قانونی طور پر یہ حق ہوگا کہ وہ ریاست سے اس کو وصول کرے۔ شریعت کے اسی اہتمام وانتظام کی وجہ سے اسلام کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا اور نہ آج ایسا ہے کہ مسلمان عورتیں طلاق پا کر بے سہارا پڑی ہوں اور کوئی ان کی کفالت اور سرپرستی کرنے والا موجود نہ ہو۔ تہذیب جدید کا مسئلہ موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب نے بہت سے مسئلے پیدا کیے ہیں۔ یہ مسئلے حقیقتی سے زیادہ مصنوعی ہیں۔ مغربی تہذیب نے بہت سے معاملات میں غیر فطری انداز اختیار کیا۔ اس کے نتیجہ میں غیر فطری مسائل پیدا ہوئے۔ اس کے بعد مزید غلطی یہ ہوئی کہ انھوں نے غیر فطری طور پر ان کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح مسائل میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ انھیں میں سے ایک طلاق کا مسئلہ بھی ہے۔ مغرب میں آزادی نسواں کے نام پر جو تحریک شروع ہوئی وہ اپنے ابتدائی جذبہ کے اعتبار سے بالکل غلط نہ تھی۔ مگر اس کے علم بردار اس کی حد کو نہ جانتے تھے۔ چنانچہ آزاد سماج بنانے کی کوشش بالاخر اباحیت پسند سماج (permissive society) تک جا پہنچی۔ عورتوں اور مردوں کے درمیان لامحدود اختلاط شروع ہو گیا۔ اس نے نکاح کے بندھن کو کمزور کر دیا۔ مرد اور عورت میاں اور بیوی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader