Urdu book · خاتونِ اسلام

تہذیبِ جدید کا مسئلہ

Urdu book, p. 295

By Maulana Wahiduddin Khan

نہ رہے بلکہ حدیث کے الفاظ میں ذواقین اور ذُوآقات بن گئے (المجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 7848)۔ اس کو مزید تقویت صنعتی دور کی اس آسانی سے حاصل ہوئی کہ عورت فوراً ہی اپنے لیے آزاد معاش حاصل کر سکتی تھی۔ جدید صنعتی معاشرہ میں ایک عورت جتنی آسانی سے اپنے لیے ذریعہ معاش حاصل کر لیتی ہے۔ وہ اس سے پہلے کبھی عورت کے لیے ممکن نہ تھا۔ اس کی وجہ سے مرد کی قوّامیت متاثر ہوئی اور عورتیں مرد کے زیر اثر رہنے پر راضی نہ ہو سکیں اور معاشرتی زندگی میں وہ مسائل پیدا ہوئے جنھوں نے طلاقوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھادی۔ طلاق کو روکنے کے لیے مغربی حکماء نے یہ تدبیر کی کہ مرد پر یہ قانونی پابندی لگادی کہ طلاق کے بعد بھی اس پر لازم ہوگا کہ وہ عورت کو گزارہ دیتا رہے۔ یہ گزارہ مغربی معیار کے مطابق مقرر ہوا۔ چنانچہ اکثر حالات میں طلاق کے معنی مرد کے لیے یہ ہو گئے کہ وہ اپنے سرمایہ کا بڑا حصہ اپنی مطلقہ بیوی کو دیدے اور مزید زندگی بھر کما کما کر اس کا حصہ اسے ادا کرتا رہے۔ اس غیر فطری صورت حال کی ایک مثال لارڈ برٹرینڈ رسل ہے۔ برٹرینڈ رسل (1970-1872) ایک نہایت ذہین اور تعلیم یافتہ انگریز تھا۔ اس کو ایک ایسی عورت درکار تھی جو اس کی ذہنی سطح کے مطابق اس کی رفیق حیات بن سکے۔ اس نے شادی کی مگر تجربہ کے بعد اس نے محسوس کیا کہ اس کی بیوی اس کی پسند کے مطابق نہیں ہے۔ ناموافقت ظاہر ہونے کے بعد اس نے فوراً اس سے علیحدگی اختیار نہیں کی ۔ سخت ذہنی اذیت کے باوجود اس کے بعد وہ تقریباً دس سال تک اس کے ساتھ نباہ کرتا رہا۔ آخر کار اس نے اس کو طلاق دے کر دوسری شادی کی۔ دوسری عورت سے بھی نباہ نہ ہوسکا اور پھر اس کو چھوڑ کر برٹرینڈ رسل کو تیسری شادی کرنی پڑی۔ یہ طلاق برٹرینڈ رسل کو بہت مہنگا پڑا۔ طلاق کے بعد اس کو از روئے قانون اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page