خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت کا نظام پتھر وغیرہ کو تراش کر سٹیچو (مورت) بنانا ایک بہت پرانا فن ہے جس کو بت تراشی (sculpture) کہتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ زندہ انسان میں اور پتھر کی مورتوں میں ظاہری طور پر کافی مشابہت ہوتی ہے اب اگر کوئی شخص انسان کے معاملے کو سٹیچو کا معاملہ سمجھ لے اور انسان کا مطالعہ فن بت تراشی کے تحت کرنے لگے تو ایسی حالت میں کیا ہو گا۔ یہ طریق مطالعہ بڑے عجیب و غریب نتائج پیدا کرے گا۔ تراشی ہوئی مورت کو کھانے اور پینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیے ایسا عالم یہ فرض کر لے گا کہ انسان کے لیے بھی کھانے پینے کا انتظام کرنا ضروری نہیں ہے۔ ایک مورت کو مہینوں اور سالوں کے لیے کمرے میں بند کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ایسا عالم انسان کو بھی ایک اندھیرے کمرے میں بند کر دے گا اور اسے کوئی پریشانی نہ ہوگی خواہ سالوں تک بھی کمرہ کھولنے کی نوبت نہ آئے۔ سابق صدر مصر جمال عبدالناصر کے زمانے میں ایک منصوبے کے تحت پتھر کی ایک قدیم مورت ابو سمبل (Abu Simbel) کو اپنی جگہ سے ہٹانا تھا۔ یہ مورت 20 میٹر اونچی تھی اور پہاڑ میں جمی ہوئی تھی چنانچہ اس کو اس طرح ہٹایا گیا کہ 66-1964ء میں خصوصی مشینوں کے ذریعہ کاٹ کر اس کے کئی ٹکڑے کیے گئے۔ یہ ٹکڑے اس کی پرانی جگہ سے ہٹا کر دوسری محفوظ جگہ لائے گئے اور پھر دوبارہ جوڑ کر کھڑے کر دیے گئے۔ اب مذکورہ عالم یہ بھی کر سکتا ہے کہ وہ اپنے کسی منصوبہ کی تکمیل کے لیے انسان کے جسم پر بھی آرا چلانا شروع کر دے۔ بظاہر ایسا کوئی سنگ تراش (sculptor) دنیا میں موجود نہیں ہے۔ مگر ایک اور شعبۂ علم میں موجودہ زمانے میں اسی قسم کے ماہرین پیدا ہوگئے ہیں۔ وہ ”انسان“ کو سٹیچو فرض کر کے اس کے ساتھ وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو صرف سٹیچو کے ساتھ کیا جاسکتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader