Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ یہ وہ علم ہے جس کو موجودہ زمانے میں علم الانسان (Anthropology) کہا جاتا ہے۔ انتھراپالوجی کا علم انیسویں صدی کے آغاز میں پیدا ہوا۔ اس کا مقصد انسانی سماج کا مطالعہ خارجی معلومات کی روشنی میں کرنا تھا۔ انھوں نے قدیم انسان کے حالات ، اس کے عقائد، اس کی روایات اور اس کے مروجہ طریقوں (customs) کو جمع کیا اور ان کی روشنی میں انسان کے بارے میں رائیں قائم کیں۔ ان کے مطالعے کے دائرے میں قدرتی طور پر مذہب بھی آتا تھا۔ چنانچہ انھوں نے مختلف فرقوں اور قبیلوں میں موجود مذہب کے بارے میں معلومات جمع کیں۔ ہر وہ رواج جو مذہب کے نام پر کہیں پایا جاتا تھا وہ سب انھوں نے اپنی فہرست میں اکٹھا کر لیا۔ اس طریق مطالعہ کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب ایک سماجی مظہر (social phenomenon) بن گیا۔ یعنی ایک ایسی چیز جو انسانی توہمات (myths) اور رواج (customs) اور سماجی حالات کے اثر سے بنتی ہے ۔ مذہب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی حکم تھا مگر انتھراپالوجی کے مخصوص طریق مطالعہ کے نتیجے میں وہ محض ایک انسانی رواج بن کر رہ گیا۔ اس طریق مطالعہ کا زبردست نقصان یہ ہوا کہ مذہب نے موجودہ زمانے میں اپنی اعتباریت (credibility) کھودی ۔ وہ ایک غیر اہم چیز بن کر رہ گیا۔ مذہب ایک خدائی حکم کی حیثیت سے ایک ایسی چیز کی حیثیت رکھتا تھا جو اپنی ذات میں مستند ہو ۔ جس کے بارے میں پیشگی طور پر یہ یقین کیا جا سکے کہ اس کا ہر بیان امر واقعی کا بیان ہے۔ اور اس قابل ہے کہ اس کو بالکل درست سمجھ کر مان لیا جائے۔ اس کے برعکس ، مذہب کو جب محض ایک سماجی مظہر (social phenomenon) مان لیا جائے تو اس کی ساری اعتباریت ختم ہو جاتی ہے ۔ وہ ایک ایسی چیز بن جاتا ہے جس کو نا واقف انسانوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page