مہر معجل
Urdu book, p. 309
By Maulana Wahiduddin Khan
اَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ۔ فَقُلْتُ عِنْدِي فَقَالَ قَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَابْعَثْ إِلَيْهَا بِهَا فَاسْتَحِلَّهَا بِهَا. فَإِنْ كَانَتْ لَصَدَاقَ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم (دلائل النبوة للبيهقى ، جلد 3 ، صفحه 160 ) ۔ یعنی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ، کیا تمہارے پاس کوئی چیز ( بطور مہر ) ہے جس کے ذریعہ تم فاطمہ کو اپنے لیے جائز کرو۔ میں نے کہا کہ نہیں خدا کی قسم اے خدا کے رسول ۔ آپ نے کہا کہ وہ زرہ کیا ہوئی جو میں نے تم کو دی تھی ۔ ( حضرت علی کہتے ہیں کہ ) اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں علی کی جان ہے ، وہ زرہ ٹوٹ چکی تھی ، اس کی قیمت چار درہم بھی نہ تھی۔ پس میں نے کہا کہ وہ میرے پاس ہے۔ آپ نے کہا کہ میں نے تمہارا نکاح فاطمہ سے کر دیا تو اس زرہ کو فاطمہ کے پاس بھیج دو اور اس کے ذریعہ فاطمہ کو اپنے لیے جائز کرو۔ تو یہ تھا فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر۔ حضرت ربیعہ اسلمی کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ربیعہ تم نکاح کیوں نہیں کر لیتے ۔ میں نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں۔ یہ سوال و جواب کئی بار ہوا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار کے فلاں قبیلہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو بھیجا ہے اور کہا ہے کہ تم فلاں عورت سے میرا نکاح کر دو۔ چنانچہ میں نے جا کر کہا اور انھوں نے میرا نکاح کر دیا۔ مگر مجھے یہ غم تھا کہ میرے پاس مہر دینے کے لیے کچھ نہیں۔ میں نے واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، اجْمَعُوا لَهُ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ: فَجَمَعُوا لِي وُزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَخَذْتُ مَا جَمَعُوا لِي فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اذْهَبْ بِهذَا إِلَيْهِمْ فَقُلْ: هُذَا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader