Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

رواج نے وضع کیا ہو، نہ کہ اس خدا نے جو ہر چیز سے براہ راست واقف ہے۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے کیمسٹری (Chemistry) کی سائنس کو گھٹا کر کیمیا گری (Alchemy) کا درجہ دے دیا جائے یا فلکیات (Astronomy) کو فنِ جوتش (Astrology) کے ہم معنی سمجھا جانے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب کے بارے میں یہ طریقِ مطالعہ سراسر غلط ہے۔ اس طریقِ مطالعہ نے ایک حقیقی جزء کو غیر حقیقی جزء بنا دیا۔ اس نے ایک خدائی چیز کو ایک انسانی چیز کا درجہ دے دیا۔ مذہب کی حقیقت سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے: أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ (3:83)۔ یعنی، کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں حالاں کہ اسی کے تابع ہے وہ سب کچھ جو زمین اور آسمان میں ہے۔ خوشی سے یا ناخوشی سے۔ اور اسی کی طرف لوگ لوٹنے والے ہیں۔ اس آیت کے مطابق مذہب عین وہی خدا کا دین ہے جو بالفعل ساری کائنات میں قائم ہے۔ خدا نے جس دین (یا قانون) کا پابند بقیہ دنیا کو بنا رکھا ہے، اسی کا پابند وہ انسان کو بھی بنانا چاہتا ہے اور اسی آفاقی قانون کا نام مذہب ہے۔ قانونِ توازن اب دیکھیے کہ وہ کون سا دین (یا خدائی قانون) ہے جو خدا نے بقیہ کائنات میں نافذ کر رکھا ہے وہ قرآن کے لفظ میں میزان (balance) کا قانون ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ (55:7-9)۔ یعنی، اور اللہ نے آسمان کو اونچا کیا اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page