خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 310
By Maulana Wahiduddin Khan
صَدَاقُهَا، فَأْتَيْتُهُمْ فَقُلْتُ: هَذَا صَدَاقُهَا فَرَضْهُ وَقَبِلُوهُ، وَقَالُوا: كَثِيرٌ طَيِّبٌ۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے سردار بریدہ اسلمی سے کہا کہ اے بریدہ تم لوگ اس کے لیے ایک گٹھلی کے ہم وزن سونا جمع کرو۔ وہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے میرے لیے ایک گٹھلی کے ہم وزن سونا جمع کیا پھر میں نے جو کچھ انھوں نے جمع کیا تھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو لے کر ان کے پاس جاؤ اور کہو کہ یہ اس کا مہر ہے۔ پھر میں ان کے پاس گیا اور کہا کہ یہ اس کا مہر ہے انھوں نے قبول کیا اور وہ راضی ہو گئے انھوں نے کہا کہ بہت ہے، اچھا ہے (مسند احمد، حدیث نمبر 16577)۔ مہر مؤجّل مہر کی دوسری صورت یہ ہے کہ مرد یہ وعدہ کرے کہ وہ اتنی مدت میں اس کو ادا کردے گا۔ اس دوسری قسم کی مہر کا شرعی نام مہر مؤجّل ہے۔ مؤجّل کا لفظ اجل (مدت) سے بنا ہے۔ مہر مؤجّل کا مطلب یہ ہے کہ وہ مہر جس کی ادائیگی کے لیے ایک وقت اور ایک مدت مقرر کردی جائے۔ اگر بوقتِ نکاح فوراً مہر ادا نہ کیا جا رہا ہو تو اسی وقت اس کی ادائیگی کی مدت کا تعین ضروری ہے۔ مہر مؤجّل کی ایک مثال حضرت موسیٰ کے نکاح میں ملتی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام جب مصر سے نکل کر مدین پہنچے تو وہاں انھوں نے حضرت شعیب کی صاحبزادی (صفورا) سے نکاح کیا۔ یہ نکاح مہر مؤجّل پر ہوا تھا۔ نکاح کی مہر طرفین کی رضامندی سے یہ قرار پائی کہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام اپنے بوڑھے خسر حضرت شعیب کی بکریاں چرائیں۔ اس گلہ بانی کی اجل (مدت) کم سے کم آٹھ سال یا زیادہ سے زیادہ دس سال تھی۔ اس کے مطابق حضرت موسیٰ کا نکاح ہوا اور پھر انھوں نے دس سال تک حضرت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader