خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 311
By Maulana Wahiduddin Khan
شعیب کے گھر پر خدمت کی۔ اس طرح مہر مؤجل کو پورا کر کے وہ دوبارہ مدین سے مصر کے لیے روانہ ہوگئے (القصص، 28:27-28) مہر مؤجل کسی قسم کے غیر متعین مہر کا نام نہیں ہے۔ شرعی اعتبار سے مہر مؤجل وہ ہے جس کی ادائیگی کی اجل (موت) بوقت نکاح طے ہوا ہو اور وہ اپنے مقررہ وقت پر پوری طرح ادا کردی جائے۔ فقہاء کی رائے مہر کا اصل شرعی طریقہ یہ ہے کہ اس کو نکاح کے وقت فوراً ادا کر دیا جائے۔ اسی پر اکثر صحابہ کا عمل رہا ہے۔ گو یا اصل مہر وہی ہے جو مہر معجل ہو ۔ مہر کی دوسری قسم (مہر مؤجل) دوسرا برابر درجہ کا طریقہ نہیں۔ یہ صرف رخصت کا طریقہ ہے۔ اصلًا مہر کی ایک ہی قسم ہے، اور وہ فوراً ادا کر دینا ہے۔ تاہم بطور رخصت یہ دوسرا طریقہ بھی رکھا گیا ہے تا کہ آدمی حسب ضرورت نکاح کے بعد بھی مقرر مدت پر اس کو ادا کر کے بری الذمہ ہو سکے۔ مہر کے بارے میں تفصیلی ابواب فقہ کی کتابوں میں آئے ہیں۔ عبدالرحمن الجزبیری کی کتاب الفقه علی المذاهب الاربعة میں مہر (مباحث الصداق) پر 85 صفحات ہیں۔ مہر کے مؤجل یا معجل (تَأجِيلُ الصَّدَاقِ وَتَعْجِيلُهُ) کے مسائل چار صفحات میں ہوئے ہیں۔ اس بارے میں اگر چہ فقہاء کے درمیان بعض اختلافات ہیں مگر وہ تمام تر جزئی ہیں ۔ ان جزئی اختلافات سے قطع نظر مختلف فقہاء کے اقوال کا خلاصہ صاحب کتاب کے الفاظ میں یہ ہے: الْحَنَفِيَّةُ - قَالُوا: يَجُوزُ تَاجِيلُ الصَّدَاقِ، وَتَعْجِيلُهُ كُلُّهُ، أَوْ بَعْضُهُ، وَلَكِنْ يُشْتَرَطُ أَنْ لَا يَكُونَ الْأَجَلُ مَجْهُولًا ۔ المَالِكِيَّةُ - قَالُوا: فَإِذَا كَانَ الصَّدَاقُ غَيْرَ مُعَيَّنٍ فَإِنَّهُ يَجُوزُ كُلُّهُ أَوْ بَعْضُهُ بِشَرْطِ أَنْ لَا يَكُونَ الْأَجَلُ مَجْهُولًا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader