Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 312

By Maulana Wahiduddin Khan

الْحَنَابِلَةُ - قَالُوا: يَجُوزُ أَنْ يُؤَجَّلَ الصَّدَاقُ كُلُّهُ. أَوْ بَعْضُهُ بِشَرْطِ أَنْ لَا يَكُونَ الْأَجَلُ مَجْهُولًا۔ الشَّافِعِيَّةُ - قَالُوا: يَجُوزُ تَاجِيلُ الصَّدَاقِ بِشَرْطِ أَنْ لَا يَكُونَ الْأَجَلُ مَجْهُولًا، سَوَاءٌ كَانَ الْمُؤَجَّلُ كُلَّ الصَّدَاقِ أَوْ بَعْضَهُ (الفقه على المذاهب الأربعة، الجزء الرابع ، مصر 1969، صفحه 156-153)۔ یعنی حنفیہ کا کہنا ہے کہ مہر کی تاخیر جائز ہے۔ اس کا کل یا جزء فوری طور پر دیا بھی جاسکتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ مدّت غیر متعین نہ ہو۔ مالکیہ کا قول ہے کہ مہر جب غیر معین ہو تو اس کا کل یا جزء جائز ہے اس شرط پر کہ مدت مجہول (غیر متعین) نہ ہو۔ حنابلہ کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے کہ مہر کا کل یا جزء مؤخر کیا جائے اس شرط پر کہ مدت مجہول نہ ہو۔ شافعیہ کا کہنا ہے کہ مہر کی تاخیر جائز ہے اس شرط پر کہ مدت مجہول نہ ہو۔ خواہ مہر کا کل حصہ مؤجل ہو یا اس کا جزئی حصہ۔ زیادہ مہر نہیں مہر رقم میں بھی دی جاسکتی ہے اور کسی چیز کی صورت میں بھی۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی مقدار حسب استعداد مقرر کی جائے۔ وہ اتنی ہی ہو کہ آدمی سہولت کے ساتھ اس کو اسی وقت ادا کر سکے۔ مہر کی کم سے کم حد کے بارے میں فقہاء کے مختلف اقوال ہیں۔ تاہم ان کا خلاصہ یہ ہے کہ مہر کی کم سے کم مقدار یہ ہے کہ وہ اتنی ہو کہ اس کے ذریعے سے ضرورت کی کوئی چیز خریدی جاسکے۔ ہر وہ رقم مہر بن سکتی ہے جو کسی چیز کی قیمت ہو: كُلُّ مَا صَحَّ ثَمَنًا صَحَّ صَدَاقًا (الفقه على المذاهب الأربعة، جلد 4، صفحه 107)۔ احادیث میں کوئی بھی ایسی حدیث نہیں جس میں زیادہ مہر مقرر کرنے کی ہمت افزائی کی گئی ہو۔ اس کے برعکس بہت سی روایتیں ہیں جن میں کم مہر مقرر کرنے کی تلقین کی گئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page