Urdu book · خاتونِ اسلام

زیادہ مہر ہیں

Urdu book, p. 313

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ اس طرح کے معاملات میں اسلام کا طریقہ ہمیشہ تلقین کا ہوتا ہے، نہ کہ تحریم کا۔ چنانچہ زیادہ مہر کو اگر چہ بالکل ممنوع قرار نہیں دیا گیا ہے مگر تمام روایتیں اسی کے حق میں ہیں کہ مہر زیادہ نہ باندھی جائے۔ چند روایتیں یہ ہیں: (1) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَيْرُهُنَّ أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 4034)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر عورت وہ ہے جس کا مہر سب سے آسان ہو۔ (2) عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَسْهِيلُ أَمْرِهَا، وَقِلَّةُ صَدَاقِهَا“ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 4095)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کی برکت میں سے یہ ہے کہ اس کا معاملہ آسان ہو اور اس کا مہر کم ہو۔ (3) أَعْظَمُ النِّسَاءِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا (مستدرک الحاكم، حديث نمبر (2732)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ برکت والی عورت وہ ہے جس کا مہر سب سے آسان ہو۔ (4) عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: ”كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوْقِيَّةً وَنَشًّا“، قَالَتْ: ”أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟“ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَتْ: ”نِصْفُ أُوْقِيَّةٍ، فَتِلْكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَم، فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ“ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1426)۔ یعنی حضرت عائشہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page