Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 314

By Maulana Wahiduddin Khan

سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر کتنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر اپنی بیویوں کے لیے بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا۔ انہوں نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ نش کیا ہے۔ راوی نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نصف اوقیہ۔ یہ تقریباً پانچ سو درہم ہوا۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر اپنی بیویوں کے لیے تھا۔ لیکن ام حبیبہ کا مہر سب سے زیادہ تھا۔ روایت کے مطابق، فَرَوَجَهَا النَّجَاشِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْهَرَهَا عَنْهُ أَرْبَعَةَ آلَافٍ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2107)۔ یعنی نجاشی نے ام حبیبہ کی شادی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھی، اور ان کا مہر چار ہزار درہم آپ کی طرف سے نجاشی نے خود مقرر کیا تھا۔ غیر افضل طریقہ روایات میں آتا ہے کہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق منبر پر چڑھے اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ مہر میں کس نے چار سو درہم پر اضافہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا مہر آپس میں چار سو درہم یا اس سے کم ہوتا تھا۔ اور اگر مہر میں زیادتی تقویٰ اور عزت کی بات ہوتی تو تم مہر کے بارے میں ان سے آگے نہیں جاسکتے تھے (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 2766)۔ دوسری روایت میں ہے کہ خلیفہ دوم نے فرمایا کہ اے لوگو، تم عورتوں کے مہر زیادہ نہ باندھو۔ اور مجھے جس شخص کے بارے میں بھی یہ اطلاع ملے گی کہ اس نے رسول اللہ کے مہر سے زیادہ مہر باندھا ہے یا کسی کو اس سے زیادہ مہر دیا گیا ہے تو میں زیادہ مقدار کو لے کر اس کو بیت المال میں جمع کر دوں گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page