Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 315

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ کہہ کر آپ منبر سے اترے تو قریش کی ایک عورت سامنے آئی۔ اس نے کہا اے امیر المومنین، اللہ کی کتاب زیادہ پیروی کے قابل ہے یا آپ کا قول۔ حضرت عمر نے کہا کہ اللہ کی کتاب۔ عورت نے کہا کہ ابھی آپ نے لوگوں کو منع کیا ہے کہ وہ عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کریں۔ اور اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ ”اور اگر تم نے کسی عورت کو زیادہ مال دیا ہے تو (طلاق کے بعد) اس میں سے کچھ نہ لو“ (4:20)۔ یہ سن کر حضرت عمر نے کہا: ہر ایک عمر سے زیادہ جانتا ہے (کُلُّ أَحَدٍ أَفْقَهُ مِنْ عُمَرَ)۔ آپ نے یہ فقرہ تین بار کہا۔ اس کے بعد حضرت عمر دوبارہ منبر پر آئے اور لوگوں سے کہا: إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تُغَالُوا فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ أَلَّا فَلِيَفْعَلْ رَجُلٌ فِي مَالِهِ مَا بَدَا لَهُ ۔ (سنن الکبری للبیہقی : 14336) میں نے تم کو عورتوں کا مہر زیادہ باندھنے سے روکا تھا۔ اب ہر آدمی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے مال میں جو چاہے کرے۔ عَنْ عُمَرَ قَالَ: لَوْ كَانَ المَهْرُ سَنَاءً وَرِفْعَةً فِي الآخِرَةِ، كَانَ بَنَاتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِسَاؤُهُ أَحَقَّ بِذَلِكَ ۔"أَبُو عُمَرَ ابْنُ فَضَالَةَ فِي أَمَالِيهِ " (کنز العمال: 45797) ۔ مہر اگر آخرت میں بلندی اور عظمت کی چیز ہوتی تو یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں اس کی زیادہ مستحق تھیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نکاح میں زیادہ مہر باندھنا اگرچہ خالص قانونی اعتبار سے بالکل ممنوع چیز نہیں مگر وہ یقینی طور پر غیر افضل چیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے مہر کم تھے۔ ان میں سے کسی کے بارے میں بھی یہ ثابت نہیں کہ اس نے اپنا یا اپنی بیٹیوں کا مہر زیادہ مقرر کیا ہو۔ صحابہ کی شادی دورِ اول میں شادی کوئی دھوم کی چیز نہ تھی۔ وہ ایک ایسی چیز تھی جس کو بس سادہ طور پر انجام دے لیا جائے۔ اس کے رسوم اور اس کے اخراجات اتنے مختصر ہوں کہ وہ طرفین کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page