صحابہ کی شادی
Urdu book, p. 316
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے کسی بھی اعتبار سے بوجھ نہ بنے۔ صحابہ کے یہاں شادی کی تقریب ہر قسم کے تکلف اور نمائش سے بالکل خالی ہوتی تھی۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم بوجھ ہو: إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤُوْنَةٌ (مسند احمد، حدیث نمبر 24529) اور کم بوجھ والا نکاح یقیناً وہ ہے جو اپنے موجودہ وسائل کے ذریعے آسانی کے ساتھ ہو جائے، نہ کہ وہ جس کا تحمل اس کے وسائل نہ کر سکتے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا معاملہ آیا جس کا نکاح ایک خاتون سے طے ہوا تھا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس مہر دینے کے لیے کیا ہے۔ اس نے کہا کہ کچھ نہیں۔ آپ نے دوبارہ پوچھا۔ اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ اس کے بعد آپ نے اس سے یہ نہیں کہا کہ تم جا کر کسی سے قرض لاؤ اور پھر اس کے ذریعے سے نکاح کرو۔ بلکہ اگلا سوال آپ نے یہ کیا کہ کیا تمہارے پاس کچھ قرآن ہے ( قرآن کا کچھ حصہ تم کو یاد ہے ) اس نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا جاؤ، میں نے قرآن کے اسی محفوظ حصہ کو مہر قرار دے کر اس خاتون کے ساتھ تمہارا نکاح کر دیا : زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 5132 )۔ مشہور صحابی حضرت عبدالرحمن بن عوف نے مدینہ میں شادی کی۔ اس وقت مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ مگر انہوں نے بس خاموشی سے ایک خاتون کے ساتھ نکاح کر لیا۔ اس سلسلہ میں امام احمد نے مفصل روایت نقل کی ہے جس کا ایک حصہ یہ ہے : فَجَاءَ وَعَلَيْهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مُهْيَمٌ“ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ: ”مَا أَصْدَقْتَهَا؟“ قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ( مسند احمد، حدیث نمبر 13863 ) یعنی، حضرت عبدالرحمن بن عوف رسول اللہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader