Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 317

By Maulana Wahiduddin Khan

صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان کے اوپر زعفران کی خوشبو کا اثر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے نکاح کر لیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اس کو کتنا مہر دیا۔ انھوں نے کہا کہ کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونا۔ غلط رواج موجودہ زمانہ میں نکاح کی اصل اسلامی روح تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ مسلمانوں میں آج نکاح کا جو طریقہ عام طور پر نظر آتا ہے وہ اسلامی نکاح سے زیادہ رواجی نکاح ہے۔ اس کا ایک نمونہ مہر ہے لڑکی والے عام طور پر مہر زیادہ باندھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا مقصد مرد کے مقابلہ میں عورت کے مفاد کی حفاظت ہے۔ ڈکشنری آف اسلام میں اس سلسلہ میں حسب ذیل الفاظ درج ہیں: The custom of fixing heavy dowers, generally beyond the husband's means, especially in India, seems to be based upon the intention of checking the husband from ill-treating his wife, and, above all, from his marrying another woman, as also from wrongfully or causelessly divorcing the former. For in the case of divorce the woman can demand the full payment of the dower. (The Dictionary of Islam by Thomas Patrick Hughes, (1979) p. 91) بہت زیادہ مہر باندھنے کا رواج جو شوہر کے ذرائع سے زیادہ ہو، خاص طور پر ہندوستان میں، بظاہر اس مقصد سے ہے کہ شوہر کو اس سے روکا جائے کہ وہ بیوی کے ساتھ برا سلوک کرے اور اس سے بھی زیادہ یہ کہ وہ دوسری شادی نہ کر سکے۔ اور مزید یہ کہ وہ غلط طور پر یا بلاسبب اپنی بیوی کو طلاق نہ دے۔ کیوں کہ طلاق کی صورت میں عورت پوری مہر کی ادائیگی کا دعویٰ کر سکتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page