غلط رواج
Urdu book, p. 318
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ مقصد کے تحت مہر زیادہ باندھنا اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ نکاح کے موقع پر مہر تو مقرر کرنا ہے مگر اس کو ادا نہیں کرنا ہے۔ اگر نکاح کے ساتھ فوراً مہر ادا کر دیا جائے تو مانع طلاق یا اور کسی مانع کی حیثیت سے اس کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ جب مہر خود باقی نہیں رہا تو اس کے مانع ہونے کی حیثیت کیسے باقی رہے گی۔ مگر یہ مفروضہ سراسر اسلام کے خلاف ہے۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اسلام میں مہر کی جائز صورتیں صرف دو ہیں۔ ایک مہر معجّل، یعنی وہ مہر جو نکاح ہونے کے بعد اسی وقت ادا کر دیا جائے۔ دوسرے مہر مؤجل، یعنی وہ مہر جس کو فوراً ادا نہ کیا جائے بلکہ اس کی ادائیگی بعد کو ہو۔ مگر یہ ”بعد“ لازمی طور پر متعین ہونا چاہیے۔ یعنی مرد اس کی ادائیگی کی ایک اجل (مدت) مقرر کرے اور اس مدت پر لازماً اس کو ادا کر دے۔ تیسری مروجۂ شکل (نکاح کے وقت ادائیگی مہر کی مدت مقرر نہ کرنا) ایک غیر شرعی طریقہ ہے۔ اس کی بنیاد پر جو کچھ کیا جائے وہ بھی یقیناً غیر شرعی ہوگا۔ اب غور کیجیے کہ جب مہر کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ یا تو اس کو فوراً بوقت نکاح ادا کر دیا جائے یا نکاح کے وقت ایک متعین مدت مقرر کی جائے اور اس متعین مدت پر اس کو ضرور ادا کر دیا جائے تو ایسی صورت میں طلاق کو روکنے کے لیے زیادہ مہر مقرر کرنا بالکل بے معنی۔ صرف وہی مہر مانع کا کام کر سکتی ہے جو بلا تعین مدت مقرر کی جائے۔ مگر یہ خود اسلامی طریقہ کے مطابق نہیں۔ مہر کے لیے ادائیگی مدت کی تعیین اپنے آپ اس کو اس اعتبار سے بے اثر کر دیتی ہے کہ وہ مرد کے لیے مانع طلاق کا کام دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader