پردہ کا حکم
Urdu book, p. 319
By Maulana Wahiduddin Khan
پردہ کا حکم از علامہ ناصرالدین الالبانی اس باب کے تحت ایک مشہور عرب عالم اور محدث محمد ناصر الدین الالبانی (1914ء - 1999ء) کی عربی کتاب کا خلاصہ درج کیا جا رہا ہے۔ راقم الحروف کا یہ ترجمہ اور خلاصہ ابتداءً ماہہی مجلہ اسلام اور عصر جدید (دہلی) کے شمارہ جنوری 1973 میں شائع ہوا تھا۔ حجاب المرأة المسلمة في الكتاب والسنة تالیف: محمد ناصر الدین الالبانی (شامی) صفحات: 122، ناشر: المكتب الاسلامی، بيروت (لبنان) ہمارے پیشِ نظر اس عربی کتاب کا تیسرا ایڈیشن (1389ھ) ہے جو ابتدائی ایڈیشنوں کے مقابلے میں مزید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ اس میں مصنف کے بیان کے مطابق، قرآن وحدیث کی روشنی میں پردے کے مسئلے کی تحقیق کی گئی ہے۔ مصنف کا نقطہ نظر یہ ہے کہ عورت کا چہرہ لازماً پردے میں شامل نہیں ہے (وَجْهُ الْمَرْأَةِ لَيْسَ بِعَوْرَةِ) - اگرچہ انھیں یہ بھی اعتراف ہے کہ اس کا چھپانا زیادہ بہتر ہے (اَلسَّتْرُ هُوَ أَفْضَلُ) - وہ ان لوگوں سے متفق نہیں ہیں جو چہرے کو اگر چہ لازمی طور پر ستر میں شامل نہیں سمجھتے۔ مگر فاسد زمانہ کی بنا پر اسبابِ فتنة کی روک تھام کے لیے (سَدُّ الذَّرِيعَةِ) اس کو چھپانا ضروری قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے جن روایات سے استدلال کیا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے: أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ: كُنَّا نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ، يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader