خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
اس میں میزان رکھی کہ تم میزان میں تجاوز نہ کرو اور تول کو ٹھیک رکھو انصاف کے ساتھ اور وزن میں کمی نہ کرو۔ کائنات کوئی ایک چیز نہیں وہ بہت سی چیزوں کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے کی تمام چیزیں متحرک ہیں۔ ایٹم سے لے کر شمسی نظام یا کہکشاں تک کوئی چیز ساکن نہیں ۔ ان متحرک اجزاء کو صحیح کارکردگی پر باقی رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ ہر ایک کے عمل کی ایک حد ہو، اور مختلف چیزوں کے درمیان صحیح ترین توازن و تناسب قائم رکھا گیا ہو۔ خدا نے چیزوں کو پیدا کرنے کے ساتھ ان کے درمیان باقاعدہ توازن بھی قائم کر دیا۔ اسی توازن کا دوسرا نام قانون فطرت (Law of Nature) ہے۔ اسی طرح انسانی دنیا بھی بہت سے افراد کا مجموعہ ہے، یہاں بھی ہر فرد متحرک ہے، ایسی حالت میں ضروری تھا کہ ہر ایک کی حد مقرر کر دی جائے۔ مختلف افراد کے درمیان وہ توازن قائم کر دیا جائے جو اس بات کی ضمانت ہو کہ فرد دوسرے کے لیے مسئلہ بنے بغیر اپنی تکمیل کرے گا۔ وہ دوسروں سے غیر ضروری ٹکراؤ کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھے گا۔ یہی وہ قانون توازن ہے جو پیغمبروں کے ذریعہ انسان پر کھولا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن میں کہا گیا ہے: لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ (25:57)۔ یعنی، ہم نے اپنے رسول کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان اتاری تا کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader