پردہ کا حکم
Urdu book, p. 325
By Maulana Wahiduddin Khan
فاطمہ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ انھوں نے اس کو ناپسند کیا کہ مرنے کے بعد عورت کو ایسے کپڑے میں لپیٹا جائے جس سے اس کا عورت ہونا ظاہر ہوتا ہو (حلیۃ الأولیاء، جلد 2، صفحہ 43)۔ نقل روایت کے بعد وہ لکھتے ہیں: فَانْظُرْ إِلَى فَاطِمَةَ بضْعَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ اسْتَقْبَحَتْ أَنْ يَصِفَ الثَّوْبُ الْمَرْأَةَ وَهِيَ مَيِّتَةٌ، فَلاَ شَكَّ أَنَّ وَصْفَهُ إِيَّاهَا وَهِيَ حَيَّةٌ أَقْبَحُ وَأَقْبَحُ (صفحہ 63)۔ پس دیکھو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگر گوشہ فاطمہ نے مردہ عورت تک کو ایسے کپڑے میں رکھنا قبیح قرار دیا جس میں اس کے نسوانی اعضا ظاہر ہوتے ہوں۔ پھر زندہ عورت کا ایسے لباس میں ہونا تو اور زیادہ بُرا ہوگا۔ 5۔ حجاب کی پانچویں شرط یہ ہے کہ کپڑا خوشبو میں بسایا نہ ہو۔ "بہت سی احادیث ہیں جو عورت کو اس سے روکتی ہیں کہ وہ خوشبو لگا کر باہر نکلے۔" پھر چار روایتیں نقل کرنے کے بعد مصنف لکھتے ہیں: وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ العِيدِ: "وَفِيهِ حُرْمَةُ التَّطَيُّبِ عَلَى مُرِيدَةِ الْخُرُوجِ إِلَى المَسْجِدِ لِمَا فِيهِ مِنْ تَحْرِيكِ دَاعِيَةِ شَهْوَةِ الرِّجَالِ." قُلْتُ: فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ حَرَامًا عَلَى مُرِيدَةِ المَسْجِدِ فَمَاذَا يَكُونُ الحُكْمُ عَلَى مُرِيدَةِ السُّوقِ وَالأَزِقَّةِ وَالشَّوَارِعِ ؟ لاَ شَكَّ أَنَّهُ أَشَدُّ حُرْمَةً وَأَكْبَرُ إِثْمًا. وَقَدْ ذَكَرَ الهَيْثَمِيُّ فِي "الزَّوَاجِرِ" (2/37) أَنَّ خُرُوجَ الْمَرْأَةِ مِنْ بَيْتِهَا مُتَعَطِّرَةً مُتَزَيِّنَةً مِنَ الكَبَائِرِ وَلَوْ أَذِنَ لَهَا زَوْجُهَا (صفحہ 65)۔ ابن دقیق نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں مسجد میں جانے والی عورت کے لیے خوشبو لگا کر نکلنے کو حرام قرار دیا گیا ہے کیوں کہ اس میں مردوں کے لیے شہوت کا محرک پایا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader