Urdu book · خاتونِ اسلام

پردہ کا حکم

Urdu book, p. 326

By Maulana Wahiduddin Khan

میں کہتا ہوں جب یہ مسجد میں جانے والی عورت کے لیے حرام ہے تو وہ عورتیں جو بازار اور راستوں اور سڑکوں پر جاتی ہیں ، یقیناً ان کی حرمت اور ان کا گناہ شدید تر ہوگا۔ اور ہیتمی نے لکھا ہے کہ عورت کا معطر اور مزین ہو کر گھر سے نکلنا گناہ کبیرہ ہے، خواہ اس کے شوہر نے اس کی اجازت دی ہو۔ 6۔ حجاب کی چھٹی شرط یہ ہے کہ لباس مردوں کے مشابہ نہ ہو۔ اس سلسلے میں انھوں نے مختلف روایتیں نقل کی ہیں ۔ (صفحہ 67) مثلاً: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5885) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کے مشابہ بنیں، اور ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو مردوں کے مشابہ بنیں۔ اس سلسلے میں ان کی تحقیق یہ ہے: أَنَّ اللَّبَاسَ إِذَا كَانَ غَالِبُهُ لُبْسَ الرِّجَالِ نُهِيَتْ عَنْهُ الْمَرْأَةُ، وَإِنْ كَانَ سَاتِرًا (صفحہ 77)۔ یعنی، ایسا لباس عورتوں کے لیے ممنوع ہے جس کا غالب حصہ مردوں جیسا ہو، اگرچہ وہ ستر ہی کیوں نہ ہو۔ 7۔ حجاب کی ساتویں شرط یہ ہے کہ لباس کافر عورتوں کے مشابہ نہ ہو۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ بھی شریعت کا ایک عظیم اصول ہے کہ کفار سے تشبہ نہ اختیار کیا جائے۔ نہ عبادت میں ، نہ تہواروں میں ، نہ پوشاک میں (صفحہ 78)۔ قرآن میں اس کا مجمل حکم ہے۔ مگر سنت میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے جن آیات سے استدلال کیا ہے، ان میں ایک وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ (57:16) ہے۔ یعنی، اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی۔ اس سلسلے میں انھوں نے ابن تیمیہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page