خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 327
By Maulana Wahiduddin Khan
اور ابن کثیر کے اقوال نقل کیے ہیں جو کہتے ہیں کہ اس میں کفار سے تشبہ اختیار کرنے کی ممانعت نہیں نکلتی ہے۔ (صفحہ 80) اس کے بعد انھوں نے وہ روایات نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ، جنازہ ، روزہ ، حج ، ذبائح ، طعام، لباس ، آداب و عادات اور مختلف چیزوں میں کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے۔ 8۔ حجاب کی آٹھویں شرط یہ ہے کہ عورت کا لباس لباس شہرت نہ ہو۔ اس سلسلے کی ایک حدیث یہ ہے (صفحہ 110): مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ فِي الدُّنْيَا، أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 5664) جو دنیا میں شہرت کا لباس پہنے ، اللہ اس کو قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا۔ کتاب کے آخر میں مصنف نے اپنی تحقیق کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے: أَنْ يَكُونَ سَاتِرًا لِجَمِيعِ بَدَنِهَا؛ إِلَّا وَجْهَهَا وَكَفَّيْهَا، عَلَى التَّفْصِيلِ السَّابِقِ، وَأَنْ لَا يَكُونَ زِينَةً فِي نَفْسِهِ، وَلَا شَفَّافًا، وَلَا ضَيِّقًا يَصِفُ بَدَنَهَا، وَلَا مُطَيَّبًا، وَلَا مُشَابِهًا لِلْبَاسِ الرِّجَالِ وَلِبَاسِ الْكُفَّارِ، وَلَا ثَوْبَ شُهْرَةٍ (صفحہ 111)۔ عورت کا لباس اس کے پورے بدن کو ڈھکنے والا ہونا چاہیے سوا چہروں اور دونوں ہاتھوں کے ۔ اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا لباس بذاتِ خود زینت بن جائے اور وہ نہ باریک ہو اور نہ تنگ ہو کہ بدن کے اعضا ظاہر ہوں۔ وہ نہ خوشبو لگا ہوا ہو اور نہ وہ مردوں اور کفار کے مشابہ ہو اور نہ وہ لباس شہرت ہو۔ اضافۂ مترجم قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے نبی ، ایمان والے مردوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader