Urdu book · خاتونِ اسلام

اضافہ مترجم

Urdu book, p. 328

By Maulana Wahiduddin Khan

رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ طریقہ ان کے لیے پاکیزہ ہے۔ بے شک اللہ باخبر ہے اس سے جو وہ کرتے ہیں۔ اور ایمان والی عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ اور وہ اپنی زینت کو نہ کھولیں مگر وہ جو ظاہر ہو جائے: وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا (24:31)۔ اس آیت کے سلسلے میں یہ سوال ہے کہ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا سے کس چیز کا استثنا مراد ہے، یعنی وہ کیا چیز ہے جس کو عورت کھلا رکھ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں فقہا اور مفسرین کی دور آئیں ہیں۔ یہ دور آئیں اس واقعہ پر مبنی ہیں کہ زینت دو قسم کی ہوتی ہے۔ زینتِ خلقیہ اور زینتِ مکتسبہ۔ چنانچہ ایک گروہ نے اس سے دونوں قسم کی زینتیں مراد لی ہیں، اور دوسرے گروہ نے اس سے صرف زینتِ مکتسبہ مراد لیا ہے۔ ابن مسعود، حسن، ابن سیرین، ابو الجوزاء، ابراہیم نخعی وغیرہ نے اس سے صرف زینتِ مکتسبہ مراد لیا ہے۔ یعنی وہ آرائش و زیبائش جو عورت خود اپنے جسم پر ڈالتی ہے۔ مثلاً کپڑا وغیرہ۔ ان حضرات کے نزدیک عورت کو باہر نکلنے کی صورت میں اپنی اس قسم کی زیبائش کو خود سے کھلا نہیں رکھنا چاہیے، البتہ اگر اس کا کوئی جزء آپ سے ظاہر ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً جسم کے اوپر کی چادر کا ہوا سے اُڑنا اور اس کی وجہ سے وقتی طور پر کسی زیبائش کا کھل جانا۔ دوسری رائے وہ ہے جو عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر، عطاء، عکرمہ، سعید بن جبیر، ابو الشعثاء، ضحاک، ابراہیم نخعی وغیرہ سے منقول ہے۔ یہ حضرات إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا (24:31) سے وجہ اور کفین (چہرہ اور دونوں ہاتھ) کا استثناء مراد لیتے ہیں۔ یہ دوسری تفسیر اس روایت پر مبنی ہے جس کو ابو داؤد نے اپنی سنن (حدیث نمبر 4104) میں نقل کیا ہے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکر آئیں اور ان کے جسم پر باریک کپڑا تھا۔ آپ نے ان کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page