Urdu book · خاتونِ اسلام

اضافہ مترجم

Urdu book, p. 329

By Maulana Wahiduddin Khan

طرف سے منہ پھیر لیا۔ آپ نے فرمایا: اے اسماء عورت جب حیض کو پہنچ جائے تو اس کے لیے درست نہیں کہ وہ اس کے سوا اپنے جسم کا کوئی اور حصہ کھولے۔ اور آپ نے اپنے چہرہ اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا (تفسیر ابن کثیر، جلد 3، صفحہ 283)۔ اس بناء پر اس معاملہ میں فقہاء کے دو گروہ ہو گئے ہیں۔ احناف اور مالکیہ کا کہنا ہے کہ چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں چھپانے والی چیزوں میں شامل نہیں (إِنَّ الوَجْهَ وَالكَفَّيْنِ لَيْسَتَا بِعَوْرَةٍ فَقَدِ اسْتَثْنَتِ الآيَةُ (24:31) مَا ظَهَرَ مِنْهَا أَيْ مَا دَعَتِ الحَاجَةُ إِلَى كَشْفِهِ وَإِظْهَارِهِ وَهُوَ الوَجْهُ وَالكَفَّانِ )۔ شافعیہ اور حنابلہ کا کہنا ہے کہ وجہ اور کفین ”عورت“ ہیں۔ یعنی چھپانے کی چیزیں ہیں۔ ان کے نزدیک زینت خلقی اور زینت کسی دونوں مطلق طور پر چھپانے کی چیزیں ہیں۔ ان کا کھولنا عورت کے لیے حرام ہے۔ اور اِلَّا مَا ظَهَرَ سے جو چیز مستثنیٰ کی گئی ہے وہ صرف وہ چیز ہے جو قصد و ارادہ کے بغیر اپنے آپ کھل جائے۔ اس پر ان سے مواخذہ نہیں۔ چنانچہ چہرہ اور ہتھیلی عورت کی وہ زینت ہیں جن کا کھولنا (ضرورت کے بغیر) حرام ہے (أَنَّ المَرْأَةَ مَا ظَهَرَ بِدُونِ قَصْدٍ وَلَا عَمْدٍ مِثْلَ أَنْ يَكْشِفَ الرِّيحُ عَنْ نَحْرِهَا أَوْ سَاقِهَا أَوْ شَيْءٍ مِنْ جَسَدِهَا، وَيُصْبِحَ مَعْنَى الآيَةِ عَلَى هَذَا التَّأْوِيلِ: وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ أَبَدًا وَهُنَّ مُؤَاخَذَاتٌ عَلَى إِبْدَاءِ زِينَتِهِنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا بِنَفْسِهِ وَانْكَشَفَ بِغَيْرِ قَصْدٍ وَلَا عَمْدٍ، فَلَسْنَ مُؤَاخَذَاتٍ عَلَيْهِ فَيَكُونُ الوَجْهُ وَالكَفَّانِ مِنَ الزِّينَةِ الَّتِي يَحْرُمُ إِبْدَاؤُهَا) محمد علی الصابونی، روائع البیان، جلد 2، صفحہ 55-154۔ مولانا شبیر احمد عثمانی سورہ النور کی مذکورہ آیت (31) کے حاشیہ میں لکھते ہیں: "احقر کے نزدیک یہاں زینت کا ترجمہ زیبائش زیادہ جامع اور مناسب ہے۔ زیبائش کا لفظ ہر قسم کی خلقی اور کسی زینت کو شامل ہے، خواہ وہ جسم کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page