Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ایک میزانِ مکتوب اتاری۔ اور اس کے حق میں دلائل بھی فراہم کیئے تا کہ لوگ اس کی صداقت و واقعیت کا یقین کر سکیں اور پھر اپنی زندگی کو اس میزان (قانونِ عدل) کے مطابق ڈھالیں۔ کائنات کی بقیہ چیزوں کے لیے خدا کا جو قانونِ توازن ہے وہ ان کے اندر داخلی طور پر شامل ہے مگر انسان کے لیے وہ ایک خارجی کتاب میں لکھ کر اس کو دیا گیا ہے۔ انحراف کا نقصان خدا کی اس میزان (قانونِ عدل) سے انحراف ہی کا نام بگاڑ ہے چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ نے زمین میں اپنے اصلاحی قوانین کے ذریعہ جو توازن قائم کر رکھا ہے اس میں فرق نہ کرو۔ ورنہ زمین میں فساد پیدا ہو جائے گا: وَلاَ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِهَا (7:56) ۔ یعنی اور زمین میں فساد نہ کرو اس کی اصلاح کے بعد۔ کائناتی توازن کی ایک مثال زمین اور سورج کا فاصلہ ہے۔ زمین اور سورج کے درمیان تقریباً نو کروڑ میل کا فاصلہ ہے۔ یہ فاصلہ حد درجہ متوازن ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ اگر یہ درمیانی فاصلہ نصف کے بقدر گھٹ جائے یعنی سورج ہماری زمین سے ساڑھے چار کروڑ میل کی دوری پر آ جائے تو زمین پر اتنی سخت گرمی پیدا ہو گی کہ اس کی ہر چیز جل جائے گی، اور یہاں زندگی جیسی چیز کا وجود ناممکن ہو جائے گا۔ یہی معاملہ زمین کی جسامت کا ہے۔ زمین کا محیط اس وقت تقریباً 25 ہزار میل ہے۔ اگر یہ محیط نصف کے بقدر گھٹ جائے۔ یعنی وہ کم ہو کر ساڑھے بارہ ہزار میل ہو جائے تو اس کی کشش اتنی کم ہو جائے گی کہ زمین کی سطح پر ہمارا جینا و ناممکن ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، اگر زمین کا محیط دُگنا مقدار میں بڑھ جائے یعنی وہ 50 ہزار میل ہو جائے تو اس کی کشش اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ تمام نمو پذیر چیزوں کی بڑھوتری (growth) رک جائے گی۔ انسان چوہوں کی مانند ہو جائیں گے۔ اور چو ہے چونٹیوں کی مانند۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page