خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 330
By Maulana Wahiduddin Khan
پیدائشی ساخت سے متعلق ہو یا پوشاک وغیرہ خارجی ٹیپ ٹاپ سے۔ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ عورت کو کسی بھی قسم کی خلقی یا کسبی زیبائش کا اظہار بجز محارم کے کسی کے سامنے جائز نہیں۔ ہاں جس قدر زیبائش کا ظہور ناگزیر ہے اور اس کے ظہور کو بسبب عدم قدرت یا ضرورت کے روک نہیں سکتی۔ اس کے بہ مجبوری یا بہ ضرورت کھلا رکھنے میں مضائقہ نہیں (بشرطیکہ فتنہ کا خوف نہ ہو)۔ حدیث و آثار سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرہ اور کفین (ہتھلیاں) إِلَّا مَا ظَهَرَ منْھا میں داخل ہیں۔ کیوں کہ بہت سی ضروریات دینی و دنیوی ان کے کھلا رکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اگر ان کے چھپانے کا مطلقاَ حکم دیا جائے تو عورتوں کے لیے کاروبار میں سخت تنگی اور دشواری پیش آئے گی۔ آگے فقہانے قدمین کو بھی ان ہی اعضا پر قیاس کیا ہے۔ لیکن واضح رہے کہ إِلَّا مَا ظَهَرَ منْھا سے صرف عورتوں کو بہ ضرورت ان کے کھلا رکھنے کی اجازت ہوئی۔ نا محرم مردوں کو اجازت نہیں دی گئی کہ وہ ان اعضاء کا نظارہ کریں۔ شاید اسی لیے اس اجازت (آیت (31) سے پیشتر ہی حق تعالیٰ نے غض بصر کا حکم (آیت 30) مومنین کو سنا دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ایک طرف سے کسی عضو کے کھولنے کی اجازت اس کو مستلزم نہیں کہ دوسری طرف سے اس کو دیکھنا بھی جائز ہو۔“ تجرباتی تصدیق جدید ترقی یافتہ ملکوں کے معاشرتی مسائل میں جو مسئلہ سرفہرست ہے وہ طلاق کا مسئلہ ہے۔ ان ملکوں میں اکثر شادیاں طلاق پر ختم ہو جاتی ہیں۔ طلاقوں کی اس کثرت نے خاندانی زندگی کے نظام کو بالکل درہم برہم کر دیا ہے۔ بچے اپنے والدین کی موجودگی میں بڑوں کی سرپرستی سے محروم ہو جاتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader