تجرباتی تصدیق
Urdu book, p. 331
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ خود رو پودے کی طرح پرورش پاتے ہیں اور بالآخر مجرمین میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ بات عام طور پر تسلیم کی گئی ہے کہ جدید نوجوان طبقہ میں انار کی کا رجحان زیادہ ترا نہیں اجڑے ہوئے گھروں (broken homes) کی پیداوار ہے۔ قدیم زمانے میں طلاق کی کثرت کا یہ مسئلہ نہ تھا۔ پھر موجودہ زمانے ہی میں یہ مسئلہ اتنے بڑے پیمانے پر کیوں پیدا ہوا ہے۔ اس کا واحد سب سے بڑا سبب وہ چیز ہے جس کو آج کل کی زبان میں مخلوط سماج (mixed society) اور مذہبی زبان میں بے پردہ معاشرت کہا جاتا ہے۔ اس بے قید طرز معاشرت نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ عورت اور مرد کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا حد بندی کے بغیر سمندر کی مچھلیوں کی طرح ایک دوسرے کے درمیان رہیں۔ اس طرز معاشرت میں جنسی وفاداریوں کا بار بار تبدیل ہونا لازمی ہے۔ باپردہ معاشرت میں عمومی طور پر آدمی صرف اپنی بیوی کو دیکھتا ہے۔ اس لیے وہ انتشارِ وفاداری کے فتنہ سے بچا رہتا ہے۔ اس کے برعکس ، بے پردہ معاشرت میں بار بار دوسرے چہرے اس کے سامنے آتے ہیں۔ اب اس کو نظر آتا ہے کہ نیا چہرہ قدیم چہرے سے زیادہ اچھا ہے۔ یہ تقابلی مشاہدہ اس کو فتنہ میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہ پرانے جوڑے سے اکتا کر نئے جوڑے کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ چنانچہ مغربی کہانیوں میں اکثر یہ بتایا جاتا ہے کہ مرد اور عورت شادی کر کے کچھ دن ایک ساتھ رہے۔ اس کے بعد ان کے سامنے کوئی اور چہرہ آیا اور وہ اس کو پسند آگیا۔ انھوں نے سابقہ تعلق کو ختم کر کے نیا تعلق قائم کر لیا۔ انسائیکلو پیڈیا برطانیہ (1984) میں مغربی ملکوں میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح پر کلام کرتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ چنانچہ مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ فلم ایکٹریس مصنفین اور دوسرے گروہ کے لوگ جو کہ جنس مخالف سے زیادہ روابط رکھتے ہیں، ان میں طلاق کا زیادہ رجحان پایا جاتا ہے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader