کامیاب ازدواجی زندگی
Urdu book, p. 333
By Maulana Wahiduddin Khan
کامیاب ازدواجی زندگی قَالَ عبدُاللہ ابنِ جَعْفَر یوصی ابنتہ عند زواجھا: يَا بُنَيَّةِ إِيَّاكِ وَالْغَيْرَةَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ الطَّلَاقِ، وَإِيَّاكِ وَكَثْرَةَ الْمُعَاتَبَةِ فَإِنَّهَا تُورِثُ الصَّغِيْنَةَ۔ (انساب الاشراف للبلاذری، جلد 2، صفحہ 50)۔ یعنی، حضرت عبداللہ بن جعفر نے نکاح کے وقت اپنی لڑکی کو نصیحت کی۔ انھوں نے کہا کہ اے میری بیٹی، تم غیرت اور نخوت سے بچو، کیونکہ وہ طلاق کا دروازہ کھولنے والی چیز ہے۔ اور تم غصہ اور ناراضگی سے بچو، کیوں کہ اس سے کینہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ بہترین نصیحت ہے جو ایک باپ اپنی بیٹی کو شادی کے وقت کر سکتا ہے۔ شادی کے بعد لڑکی ایک غیر شخص کے گھر جاتی ہے۔ اس سے پہلے وہ خونی رشتہ داروں کے درمیان رہ رہی تھی۔ اب وہ ایسے لوگوں کے درمیان جاتی ہے جن سے اس کا خون کا کوئی رشتہ نہیں۔ خونی رشتہ دار (باپ، ماں، بھائی بہن) لڑکی کی ہر بات کو برداشت کرتے ہیں۔ وہ اپنے میکے میں نخوت دکھا کر بھی بے قدر نہیں ہوتی۔ وہ غصہ دکھائے تب بھی لوگ اس سے بیزار نہیں ہوتے۔ مگر سسرال کا معاملہ اس سے سراسر مختلف ہوتا ہے۔ سسرال میں لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے وہ پیدائشی نرمی نہیں ہوتی جو میکے کے لوگوں میں ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سسرال میں اس کا ہر عمل ایک ردِعمل پیدا کرتا ہے۔ میکے میں لوگ اس کی نخوت کو نظر انداز کر دیتے تھے، مگر سسرال میں اس کی نخوت کو لوگ اپنی یادوں میں رکھ لیتے ہیں۔ میکے میں لوگ اس کے غصہ کو بھلا دیتے تھے، مگر سسرال میں کوئی شخص اس کے غصہ کو بھلانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں سسرال میں نباہ کی واحد شرط یہ ہے کہ لڑکی اپنے مزاج کو نئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader