خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 334
By Maulana Wahiduddin Khan
ماحول کے مطابق بنا کر رہے۔ وہ ایسے عمل سے بچے جو ناموافق ردِ عمل پیدا کرنے والا ہو۔ کوئی بات اپنی پسند کے خلاف ہو تو اس کو گوارا کرے۔ کسی بات سے اس کے دل کو رنج پہنچے تو اس کو دل ہی دل میں ختم کر دے۔ کسی سے امید کے خلاف سلوک کا تجربہ ہو تو اس کی اچھی توجیہہ کر کے اس کو دماغ سے نکال دے۔ ایک لڑکی کے لیے سسرال میں کامیاب زندگی بنانے کی یہی واحد تدبیر ہے۔ اس کے سوا سسرال کے مسئلہ کا کوئی دوسرا حل نہیں۔ نادان باپ اپنی بیٹی کو یہ سبق دیتا ہے کہ سسرال میں اکڑ کر رہنا ورنہ لوگ تم کو دبا لیں گے۔ اس کے برعکس سمجھ دار باپ کی نصیحت اپنی بیٹی کے لیے یہ ہوتی ہے کہ سسرال میں دب کر رہنا ورنہ لوگ تم سے اکڑیں گے۔ انھیں دو فقروں میں کامیاب ازدواجی زندگی اور ناکام ازدواجی زندگی کے فرق کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔ دو مثالیں مجھے دو عورتوں کا قصہ معلوم ہے۔ ایک خاتون اپنے والدین کی منظورِ نظر تھیں۔ وہ اپنے میکہ میں کوئی کام نہیں کرتی تھیں۔ سارا دن بے کاری میں گزارتی تھیں۔ شادی ہو کر جب وہ اپنی سسرال میں پہنچیں تو وہاں بھی انھوں نے اسی طرح کام سے غیر متعلق ہو کر رہنا چاہا جس طرح وہ اپنے والدین کے گھر میں کام سے غیر متعلق ہو کر رہتی تھیں۔ مگر نئے ماحول میں یہ ناممکن تھا۔ چنانچہ سسرال والوں سے ان کے اختلافات شروع ہو گئے۔ ان کی بے فکر زندگی پریشانیوں کی زندگی میں تبدیل ہو گئی۔ انھوں نے کبھی اپنے آپ پر غور نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ سسرال والوں ہی کو الزام دیتی رہیں۔ یہاں تک کہ لڑ جھگڑ کر ایک روز وہ اپنے والدین کے پاس چلی آئیں ۔ یہاں انھوں نے اپنے والدین کے سامنے صرف آدھی کہانی بیان کی۔ یعنی انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ میں کس طرح وہاں رہی۔ وہ صرف یہ بتاتی رہیں کہ دوسروں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader