Urdu book · خاتونِ اسلام

دو مثالیں

Urdu book, p. 335

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ صرف اس لیے تھا کہ انھوں نے سسرال کے کام کاج سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔ سسرال کو انھوں نے اپنا گھر نہیں سمجھا۔ شادی کے بعد سسرال انکا گھر بن چکا تھا مگر وہ بدستور میکہ کو اپنا گھر کہتی اور سمجھتی رہیں۔ تاہم انھوں نے اپنے والدین کو یہ بات نہیں بتائی۔ وہ صرف اس سلوک کو بتاتی رہیں جو کہ ان کے سسرال والوں نے جوابی طور پر (نہ کہ یک طرفہ طور پر) ان کے ساتھ کیا تھا۔ ان کے والدین نے وہی نادانی کی جو ایسے مواقع پر عام طور پر لڑکیوں کے والدین کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنی لڑکی کی بات کو جوں کا توں مان لیا اور سسرال والوں کو یک طرفہ طور پر ظالم قرار دے کر ان کے خلاف لڑائی چھیڑ دی۔ یہ سلسلہ لامتناہی طور پر جاری رہا۔ یہاں تک کہ لڑکی کی ذہنی کوفت میں مبتلا ہو کر ٹی بی کی مریض ہو گئی۔ وہ برسا برس تک اسی حال میں پڑی رہی، اور آخر کار طویل دکھ بھری زندگی گزار کر دنیا سے چلی گئی۔ دوسرا قصہ ایک دانش مند خاتون کا ہے، نکاح کے بعد جب وہ رخصت ہو کر اپنے سسرال میں پہنچی تو وہاں کی عورتوں نے اس کو بے قدر کر دیا۔ اپنی شکل وصورت کے اعتبار سے وہ زیادہ جاذب نہ تھی۔ ابتداء اس کے پس پشت اس پر تبصرے ہوتے تھے۔ جلد ہی بعد خود اس کے سامنے اس کی بدصورتی پر تبصرے کیے جانے لگے۔ وہ اپنی سسرال کی ایک بے عزت فرد بن کر رہ گئی۔ خاتون کے لیے یہ بات بے حد سخت تھی۔ مگر اس نے طے کیا کہ اس معاملے میں وہ اپنے والدین سے ایک لفظ بھی نہیں کہے گی۔ اس نے خاموشی کے ساتھ ایک فیصلہ کیا، یہ کہ وہ لوگوں کی باتوں سے بالکل بے پروا ہو کر لوگوں کی خدمت کرے گی۔ اس نے گھر کا پورا کام رضا کارانہ طور پر سنبھال لیا۔ وہ گھر کے ہر فرد کی ضرورت کا خیال کرنے لگی۔ اس نے اپنی پوری توجہ اس میں لگا دی کہ گھر کے ہر فرد کو اس سے آرام پہنچے۔ کسی کو بھی اس سے کسی تکلیف کا تجربہ نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page