Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 336

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک طویل اور صبر آزما منصوبہ تھا۔ اس کے پورا ہونے میں مہینوں نہیں بلکہ سالوں بیت گئے۔ آخر کار دھیرے دھیرے حالات بدلنا شروع ہوئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ گھر کی سب سے زیادہ با عزت فرد بن گئی۔ ہر شخص اس کو محبت اور قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگا۔ جس گھر میں اس سے پہلے وہ گھر کی خادمہ بنا دی گئی تھی اسی گھر میں اس نے دوبارہ گھر کی مالکہ کی حیثیت حاصل کر لی۔ کامیاب ازدواجی زندگی کا راز صرف ایک لفظ میں چھپا ہوا ہے، اور وہ وفاداری ہے۔ میکہ میں ایک لڑکی کی وفاداری ، ماں باپ اور بھائی بہن کے درمیان ، پیدائشی طور پرمسلّم ہوتی ہے۔ وہاں پیشگی طور پر ہر ایک کو اس کی وفاداری کا یقین ہوتا ہے۔ خون کا تعلق اس کو اپنے میکہ والوں کے لیے ایسا وفادار بنا دیتا ہے جو کسی حال میں بھی ختم ہونے والا نہیں۔ مگر سسرال کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہاں اس کی وفاداری پہلے سے موجود نہیں ہوتی۔ وہ قائم کرنے سے قائم ہوتی ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ عورت اپنا گھر تبدیل کرنے کے ساتھ اپنی وفاداری بھی تبدیل کر دے۔ وہ پیدائشی وفاداری کو شعوری وفاداری بنائے۔ اب اس کے یہاں اپنا گھر‘‘ کے معنی اس کی سسرال ہو۔ اب اس کی تو جہات کا مرکز اس کے شوہر کا خاندان بن جائے۔ وہ اپنے میکہ کی طرف دیکھنا چھوڑ دے، وہ ہر معاملہ میں اپنی سسرال کی طرف دیکھے۔ وہ دل سے سسرال والوں کی خیر خواہ بن جائے۔ یہی بطور واقعہ بھی درست ہے اور یہی عورت کے لیے اپنی شادی شدہ زندگی کو کامیاب بنانے کا راز بھی۔ یقینی حل حقیقت یہ ہے کہ خوش گوار ازدواجی زندگی کا معاملہ سب سے زیادہ شعور سے متعلق ہے۔ شعور کسی خاتون کی شادی شدہ زندگی کو کامیاب بناتا ہے اور بے شعوری اس کی شادی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page